خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 443 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 443

خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۳ خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء احمدی اور دوسرے تمام مسلمان مصیبت میں مبتلا تھے ہمیں تو کبھی بھی یہ بات یاد نہیں آئی لیکن اس وقت کسی کو بھی یہ یاد نہیں تھا کہ وہ کون سے فرقہ کی طرف منسوب ہوتا ہے سارے مسلمان تھے اور اسلام کا دشمن ان کو تنگ کر رہا تھا ان دنوں ایک دو ماہ متواتر میں اس معنی میں نہ سویا کہ میں چوبیں گھنٹے دفتر ہی میں رہتا تھا اگر ایک بجے رات کو لیٹتا تھا تو ڈیڑھ بجے میرے ساتھی مجھے جگا دیتے تھے اور کہتے تھے فلاں کام پڑ گیا ہے فلاں جگہ سے یہ خبر آئی ہے اس طرح پندرہ پندرہ منٹ یا آدھا آدھا گھنٹہ کر کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی نیند لیتا تھا ایک مہینہ لگا تار میں نے اس مشقت کو برداشت کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی اور پھر خالی میری ہی مثال نہیں تھی بلکہ سب کا یہی حال تھا بلکہ ممکن ہے کہ بعض ایسے ساتھی بھی ہوں جو مجھ سے بھی کم نیند لیتے ہوں کیونکہ وہ میرا بڑا خیال رکھتے تھے اور میں کئی دفعہ اس کے متعلق سوچ کر شرمندہ بھی ہوتا تھا اب اگر یہ کہا جائے کہ پانچ گھنٹہ کی ہماری ڈیوٹی لگا دو اس کے بعد ہم آزاد ہوں گے یہ ذہنیت قابل برداشت نہیں ہمارے رضا کار چوبیس گھنٹہ ڈیوٹی پر ہیں ہاں جو جائز ضرورتیں ہیں وہ پوری ہونی چاہئیں مثلاً انسان نے غسل خانہ میں بھی جانا ہے اس نے روٹی بھی کھانی ہے اگر ایک نو جوان خدمت کے جذبہ اور شوق کے ساتھ گھر سے آیا ہے اور گھر میں اسے ایک گھنٹہ کا کام ہے تو اس کو ایک گھنٹہ کی اجازت ملنی چاہیے گھر جا کر بھی تو اس نے مہمانوں کا کام ہی کرنا ہے لیکن ڈیوٹیاں وغیرہ جو لگائی جاتی ہیں یہ سرے سے ختم ہونی چاہئیں پتہ نہیں یہ بُرائی ہمارے اندر کب سے پیدا ہو گئی ہے؟ ہمارے آقا کے ان مہمانوں کے حقوق اگر ادا کرنے ہوں تو ہمارے رضا کاروں کو ہیے کہ وہ بر وقت حاضر ہوں اور سارا وقت حاضر رہیں۔تربیت کے سلسلہ میں مجھے ایک اور واقعہ یاد آ گیا وہ بھی میں بیان کر دیتا ہوں ہمارے ماموں جان ( حضرت میر محمد اسحاق صاحب ) جو بڑا لمبا عرصہ افسر جلسہ سالا نہ رہے بڑی دھیمی طبیعت کے اور بڑے نرم دل تھے میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا رہا ہوں میں نے ان کو شاذ ہی غصہ میں دیکھا لیکن ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک مہمان ان کے پاس آیا اور اس نے شکایت کی کہ میں آج ہی یہاں پہنچا ہوں جب میں اپنے رہائش کے کمرہ میں پہنچا تو وہاں تالا لگا ہوا تھا اور کوئی +6