خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 438

خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۸ خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء رض ہو یا خطوط وغیرہ فائل کرنے کا ہو ان کے علاوہ دوسرے تمام کام جو اس عمر کے مطابق ہوں ہم سے لیتے تھے ایک دن آپ نے مجھے کہا (رات کے کوئی نو دس بجے کا وقت ہوگا ) کہ مدرسہ احمدیہ میں جو مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر آؤ کہ کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں۔آپ میں سے بہتوں کے ذہن میں مدرسہ احمدیہ کا نقشہ نہیں ہو گا مدرسہ احمدیہ میں دو صحن تھے ایک بڑا صحن تھا اس کے اردگرد رہائشی کمرے تھے چند ایک کلاس روم بھی تھے لیکن زیادہ تر رہائشی کمرے تھے ایک چھوٹا صحن تھا جس کے ارد گرد چھوٹے کمرے تھے اور وہاں کلاسیں ہوا کرتی تھیں جلسہ کے دنوں میں ان کمروں میں بھی مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔حضرت میر صاحب نے کہا کہ ان چھوٹے کمروں کا چکر لگا کر آؤ اور دیکھو کہ کسی مہمان کو تکلیف تو نہیں کسی کو کوئی ضرورت تو نہیں اس دن حضرت میر صاحب نے معاونین میں چائے تقسیم کروائی تھی جلسہ کے دنوں میں ایک یا دو دفعہ رات کے دس بجے کے قریب چائے تقسیم کی جاتی تھی۔اس چائے میں دودھ اور میٹھا سب کچھ ملا ہوا ہوتا تھا اور نیم کشمیری اور نیم پنجابی قسم کی چائے ہوتی تھی بہر حال اس دن وہ چائے تقسیم ہوئی تھی میں وہاں جا کر کمروں میں پھر رہا تھا دوستوں سے مل رہا تھا اور ان سے ان کے حالات دریافت کر رہا تھا ایک کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا میں اس میں داخل ہونے لگا تو میں نے دیکھا کہ ہمارا ایک رضا کارجو چھوٹی عمر کا تھاوہ آبخورے میں چائے لے کر باہر سے آیا۔کمرے میں ایک مہمان کو بخار چڑھ گیا تھا اس نے یہ سمجھا کہ یہ رضا کار میرے لئے گرم چائے اور دوائی وغیرہ لے کر آیا ہے مجھ سے چند سیکنڈ ہی قبل وہ دروازہ میں داخل ہوا تھا اس مہمان نے غلط نہی میں ( کیونکہ ہمارے احمدی مہمان بھی بڑی عزت والے ہوتے ہیں اس مہمان کو اسی شام کو بخار چڑھ گیا تھا اور بڑا تیز بخار تھا اس کو غلط فہمی ہو گئی تھی ) اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور کہا تم میرے لئے گرم چائے لائے ہو تم بڑے اچھے اور ”بیبے“ بچے ہو (اسی قسم کا کوئی فقرہ اس نے کہا ) اب یہ اس بچہ کے لئے انتہائی امتحان اور آزمائش کا وقت تھا اگر اس بچے کے چہرہ پر ایسے آثار پیدا ہو جاتے جن سے معلوم ہوتا کہ یہ اس کے لئے چائے نہیں لا یا بلکہ اپنے لئے لایا ہے تو اس مہمان نے کبھی چائے نہیں لینی تھی میں باہر کھڑا ہو گیا اور خیال کیا کہ اگر میں اندر گیا تو نظارہ بدل جائے گا میں نے چاہا کہ دیکھو یہ کیا کرتا ہے اس