خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 413
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۳ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء علم نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ ان کو بہت جزا دے کیونکہ یہ بھی بڑی قربانی ہے جو ربوہ کے مکین خدا تعالیٰ کی راہ میں دے رہے ہیں مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ اس راہ میں ربوہ والے بڑی ہی قربانی پیش کرتے ہیں اور بڑی بشاشت سے پیش کرتے ہیں لیکن ہمیں صرف سر ا یعنی خفیہ طور پر ہی خرچ کرنے کا حکم نہیں بلکہ علانیہ خرچ کرنے کا بھی حکم ہے اس لئے اگر اور جہاں تک ممکن ہو سکے جلسہ سالانہ کے انتظامات کے لئے اپنے گھروں کے بعض حصوں کو خالی کرو تا کہ وَ يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا ہی پر آپ ٹھہر نہ جائیں بلکہ علانیہ طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں تا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی کامل نعمتوں کے وارث بنیں۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس دو کمرے ہیں تو وہ اس کی بیوی اور اس کے پانچ یا سات بچے ایک ہی کمرہ میں سمٹ سمٹا کر زمین پر سونے لگ جاتے ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دار مسیح ( قادیان) بہت بڑی حویلی ہے لیکن) جلسہ سالانہ کے دنوں میں حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا ( جن کے پاس میں رہا اور جنہوں نے میری پرورش اور تربیت کی ) اکثر اوقات ضرورت کے وقت ہمیں زمین پر سلا دیتی تھیں اور اس میں ہمیں بہت خوشی ہوتی تھی ہمیں ایک مزہ آتا تھا پانچ سات سال کی عمر میں اصل روحانی لذت کا تو شعور نہیں ہوتا کیونکہ بچہ بلوغت کو نہیں پہنچا ہوتا لیکن اس فضا کے اثر کے نتیجہ میں بڑی بشاشت پیدا ہوتی تھی کہ جلسہ سالانہ کی ضرورتوں کی وجہ سے ہم زمین پر لیٹے ہوئے ہیں غرض جلسہ سالانہ کے موقع پر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس دو کمرے ہیں تو وہ ایک کمرہ میں پرالی بچھا کر زمین پر سمٹ سمٹا کر سو جاتے ہیں اور دوسرا کمرہ مہمانوں کو دے دیتے ہیں۔ضمناً میں یہ بات بھی کہہ دوں کہ باہر سے آنے والے بھی بڑی محبت اور فدائیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ایک دفعہ جب میں افسر جلسہ سالانہ تھار پورٹ کرنے والوں نے مجھے رپورٹ دی کہ فلاں گھر میں صرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہے اور چالیس یا پچاس ( صحیح تعداد مجھے یاد نہیں ) کا کھانا وہ لے کر گیا ہے کہیں اس نے بددیانتی نہ کی ہو میں نے کہا چلو چیک کر لیتے ہیں۔چنانچہ رات کو ہمارے آدمی پتہ لینے کے لئے گئے تو جتنے لوگوں کے متعلق رپورٹ تھی کہ اس سے زیادہ آدمی