خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 410
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۰ خطبه جمعه ۲۹ / نومبر ۱۹۶۸ء دی ہو ورنہ نہیں۔پس یہ ساری نعمتیں ہیں تم خدا کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم فساد کرو گے، توڑ پھوڑ سے کام لو گے، لوٹ مچاؤ گے ،لوگوں کی جانوں کو یا ان کے اوقات کو نقصان پہنچانا چاہو گےتو تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر رہے ہو گے مثلاً ایک شخص ہے اس نے آٹھ گھنٹے محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہے اور تم نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ اپنے کام پر جا نہیں سکتا فساد کی وجہ سے اس کے رستے رک گئے ہیں تو اس کے بچے بھوکے رہیں گے گویا خدا تعالیٰ نے اسے ایک نعمت دی تھی اور تم اس نعمت سے اسے محروم کرنے والے بن گئے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ نعمت خداوندی کو یا در کھتے اور اس کا شکر بجالاتے ہیں وہ فساد نہیں کیا کرتے بلکہ اپنے مال کی ، اپنی جانوں اور اپنے ہمسائیوں، بھائیوں ، ہم ملک، ہم قوم اور دنیا میں بسنے والے ہم عصروں کی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے اموال کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ ہر چیز اور ہر مخلوق جوان کی بصیرت اور بصارت کے سامنے آتی ہے اسے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے نہ وہ خود کو محروم کرنا چاہتے ہیں نہ دوسروں کو محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض قرآن کریم کے سات سو احکام میں سے دوسرا حکم جس کی طرف میں اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ دنیا میں فساد نہ کرو۔تیسرا حکم اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کا دیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً - (ابراهیم : ۳۲) یعنی میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں یا ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں کہہ دو کہ نمازوں کو قائم کریں اور ) ہم نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اور ہم نے جو بھی انہیں دیا ہے اس میں سے وہ ہماری راہ میں سِرًّا وَ عَلَانِيَةً یعنی پوشیدگی میں بھی اور ظاہر میں بھی خرچ کریں اس مِمَّا رَزَقْنهُمْ میں جیسا کہ احمدیوں کے سامنے یہ چیز بار بار آتی ہے صرف امول کی طرف ہی اشارہ نہیں بلکہ اوقات بھی اسی میں آجاتے ہیں استعدادیں بھی اس میں آجاتی ہیں اموال بھی اس میں آجانے چاہیے وہ غیر منقولہ ہوں یا منقولہ غرض اللہ تعالیٰ کی ہر عطا اس میں آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ