خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 399

خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۹ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۶۸ء سکتا ہے مثلاً یہاں اس خطبہ کے دوران بھی بہت سے دوست ایسے ہیں کہ جن کو مروج علم جو ہے اسے حاصل کرنے کی توفیق نہیں ملی لیکن وہ بھی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے اور اس میں کوئی پیچیدگی نہیں پائی جاتی کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ نماز اپنی شرائط کے ساتھ ادا کرو اور دوسروں کے اموال نہ کھایا کرو یہ بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے چاہے وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہے یا نہیں جانتا تو فرما یا یہ ھدی للناس ہے ہر شخص اس کی ہدایت کا علم حاصل کر سکتا ہے رمضان کے مہینہ میں کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے اور اس نیت سے کرنی چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ قرآن کریم نے جو ہدایتیں دی ہیں ہمیں اس زندگی میں تاکہ یہاں کی زندگی بھی کامیاب ہو اور وہاں کی زندگی بھی پرسکون اور راحت بخش ہو وہ کیا ہیں؟ دوسری بات جس کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف ہدایت ہی نہیں دیتا بلکہ یہ حکیم کتاب ہے اور حکیم خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ دلائل بھی دیتا ہے تو جن کو دلائل کے سمجھنے کی قوت اور استعداد حاصل ہو تو اس استعداد کو کام میں لا کر رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کی جائے تو یہ حکمت معلوم کرنے کی بھی کوشش کریں جس سے قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔اور تیسری بات جس کی طرف ہمیں متوجہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ فرقان بھی ہے یعنی حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے والا ہے اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم پر غور کرو گے اور اس پہلو کی برکت سے بھی حصہ لینے کی کوشش کرو گے تو تمہیں بھی ایک امتیازی مقام اللہ کی طرف سے حاصل ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ روزہ جو ہے اس روزے کے اندر رمضان کے اندر ساری چیزیں آتی ہیں خاص وقت تک خاص شکل میں کھانے پینے سے رکے رہنا خالی یہی روزہ نہیں ہے بلکہ بہت ساری اور باتیں رمضان سے تعلق رکھتی ہیں احکام رمضان سے تعلق رکھتی ہیں ان کو بجالانا اور خیال رکھنا کہ کوئی غلط چیز نہ ہو جائے تا کہ ہمارا روزہ کامل شکل میں ہمارے رب کے حضور پیش ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر اسی رنگ