خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 398
خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۸ خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۶۸ء کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے اور وہی نزول ہے۔اس آیت میں یہ بتانے کے بعد کہ قرآن کریم کا رمضان کے مہینہ سے ایک گہرا تعلق ہے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں تم تین برکات حاصل کر سکتے ہو اور ان برکات کے حصول کی طرف تمہیں متوجہ ہونا چاہیے۔ایک یہ کہ قرآن کریم جس میں رمضان کی برکات کا ذکر ہے اور جو رمضان میں بار بار نازل ہوتا رہا ہے وہ ایک کامل ہدایت کے طور پر دنیا کی طرف بھیجا گیا ہے۔رمضان میں جس حد تک ممکن ہو علیحدہ ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کی طرف متوجہ ہونے کا ارشاد ہے اور ہر شخص قرآن کریم کی ہدایت یعنی وہ مذہبی تعلیم جو یہ لے کر آیا ہے اسے آسانی سے سمجھ سکتا ہے تو ایک تو یہ ھدی للناس ہے ہر شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت کا جو حصہ ہے وہ آسانی سے سمجھ لے اس کی چند ایک مثالیں میں دوں گا سارا قرآن مجید اس ہدایت سے بھرا ہوا ہے مثلاً یہ کہ نماز پڑھوا اپنی شرائط کے ساتھ۔اس حد تک ہر شخص سمجھ سکتا ہے بلکہ جو مسلمان نہیں وہ بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ بعض مخصوص شرائط کے ساتھ التزام کے ساتھ نماز ادا ہونی چاہیے۔قرآن کریم میں ایک ہدایت یہ بھی ہے کہ لاتا كُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ (البقرة : ۱۸۹) کہ ناجائز طریقوں سے ایک دوسرے کے اموال سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا کریں ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ دوسروں کے اموال سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا اور دوسروں کے اموال کو ناجائز نقصان نہیں پہنچانا اس میں وسیع مضمون آ جاتا ہے لیکن وسعت میں جائے بغیر اتنی بات کہ دوسروں کے اموال باطل راہوں سے کھانے نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے چھ سات سال کے بچے کے سامنے یہ تعلیم رکھیں تو وہ سمجھ جائے گا کہ قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے ایک تو ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم کی ہدایت کا علم ہونا چاہیے قرآن کیا کہتا ہے قرآن کس چیز سے روکتا ہے تو یہ ایسی چیز نہیں کہ جس کے متعلق کوئی شخص کہے کہ چونکہ میں پڑھا ہوا نہیں اس لئے ہدایت کا میں علم حاصل نہیں کر سکتا جو پڑھا ہوا نہیں وہ سن کر اس بات کو سمجھ