خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 391
خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۱ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء ہیں تو بڑی تکلیف بن گئی ہم مصیبتوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن جو شخص صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا سہارا ڈھونڈتا ہے اور محض اس پر توکل کرتا ہے وہ غیر اللہ سے آزاد ہوجاتا ہے پھر غیر اللہ کی اسے کوئی فکر نہیں رہتی۔وہ ایک ہی ہستی ہے جس کے ساتھ اس نے اپنا پختہ تعلق قائم کر لیا جس پر اس نے تو گل کیا جس پر اس نے بھروسہ رکھا اور اپنی تمام کمزریوں کے باوجود یہ سمجھا کہ وہ پاک ذات اتنی عظیم ہے کہ وہ میری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے مجھ پر احسان پر احسان کرتی چلی جائے گی اور چونکہ انسان غیر اللہ کے احسانوں سے آزاد ہو کر بہت سے دکھوں سے بچ جاتا ہے اس لئے وہ اس قابل ہوتا ہے کہ سکون کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارے اور اپنی زندگی کا اور اپنی حیات کا مقصد پورا کرے۔دوسری چیز جو ہمیں دنیوی سہاروں میں نہیں ملتی اور وہ صرف ہمیں اللہ پر ہی تو گل رکھنے سے حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی غیر طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی لیکن کوئی دنیا دار شخص کسی دوسرے شخص کو اس رنگ میں سہارا نہیں دے سکتا کہ کوئی غیر چیز اسے نقصان نہ پہنچائے مثلاً وہ بیماریوں سے نہیں بچا سکتا فرض کرو وہ اس علاقہ میں حاکم اعلیٰ ہی ہے اور اس کی چلتی ہے لیکن پھر بھی وہ بیماریوں سے نجات نہیں دے سکتا ، آفات آسمانی سے وہ نہیں بچاسکتا، اس کی اپنی اندرونی کمزوریوں سے اس کی اصلاح نہیں کر سکتا یہ ہو سکتا ہے کہ سہارا دیتے دیتے وہ اس کو اس قدر اٹھا لے کہ وہ اسے اپنا وزیر بنالے لیکن پھر بعد میں کچھ عرصہ گذرنے پر اسے علم ہو کہ یہ شخص وزارت کا اہل نہیں اسی لئے وہ اسے وزارت سے ہٹا دے اور اس طرح دنیا کا ایک چھوٹا سا آسمان جو اس نے بنایا تھا وہاں سے اسے جھٹکا دے کر نیچے گرا دے اور اس کی ہڈی پسلی تو ڑ دے غرض کوئی دنیا دار شخص جو کسی دوسرے کے لئے اس دنیا میں سہارا بنتا ہے اس میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ اس کو ہر قسم کے نقصانوں سے بچالے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں وہ اگر کسی کا سہارا بنے تو اس کو ہر قسم کے نقصان سے بچا سکتی ہے۔پھر دنیوی سہارے ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی خوشامد میں کرتے کرتے اور ان کے کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور پتہ نہیں وہ اور کیا کچھ کرتے ہیں لیکن اول تو وہ ان کی جزا دیتے