خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 390
خطبات ناصر جلد دوم ۳۹۰ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء وہ حفاظت نہیں کر سکتے۔پھر ہم میں سے وہ جن کو دنیا دکھ دے رہی ہوتی ہے بے سہارا نہیں ہوتے ان کی بشاشت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔وہ اسی طرح بشاشت صادقہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت اور بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی میں لگے رہتے ہیں اور وہ یقین کامل پر ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم نے اللہ کو سہارا بنا لیا ہے ہم صرف اسی پر ہی تو کل کرتے ہیں اس لئے وہ اپنے فضل سے ہماری ضرورتوں کو بھی پورا کرے گا اور ہمیں اپنی حفاظت میں بھی لے لے گا۔اللہ تعالیٰ پر کامل تو گل کے نتیجہ میں جو چیز ہمیں حاصل ہوتی ہے اور جس کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ چیز دنیا کے سہاروں کے نتیجہ میں ہمیں حاصل نہیں ہو سکتی اور جب تک اللہ تعالیٰ کو ہم اپنا سہارا نہ بنا ئیں اور اسی پر تو گل نہ رکھیں اپنے کام اس کے سپرد نہ کریں اس اعتماد کے ساتھ کہ ہم اپنے کام خود بھی اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک وہ ہمیں مدد نہ پہنچائے ، جب تک وہ ہمیں سمجھ نہ دے، جب تک وہ ہمارے لئے سامان نہ پیدا کرے، جب تک وہ دلوں میں ہماری محبت نہ پیدا کرے، ہمارے لئے شفقت پیدا نہ کرے دنیوی سہاروں میں ہمیں وہ چیزیں نہیں مل سکتیں جو اللہ تعالیٰ کے سہارا سے ہمیں مل سکتی ہیں اور جو صرف اس وقت ہمیں ملتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ پر ہمارا کامل تو گل ہو اور اللہ تعالیٰ ہمارے اس تو کل کو قبول کر کے ہمیں اپنی پناہ میں لے لے اور ہمارا سہارا بن جائے۔پھر دنیوی سہارے ہمیں پورے طور پر بدیوں سے نہیں بچا سکتے ، دنیوی سہارے پورے طور پر اعمال بجالانے کی ہمیں توفیق عطا نہیں کرتے بلکہ وہ تو ہمارے خیالات کو اور بھی گندہ کر دیتے ہیں پھر دنیوی سہاروں کے نتیجہ میں یہ خرابی پیدا ہوتی ہے کہ ہم بہتوں کے احسان کے نیچے آ جاتے ہیں اور یہ بات ہمارے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن جاتی ہے مثلاً ایک کام ہم نے زید سے کروایا دوسرا بکر سے کروایا۔تیسر اعمر سے کروایا۔چوتھا کسی اور سے کروایا اور پانچواں کسی اور سے کروایا اس طرح ہم نے دس کام مختلف دس سہاروں سے کروائے اور پھر ایک ایسا موقع آگیا کہ زید نے کہا کہ تم میرے زیرا احسان ہو اس لئے تم میرا یہ کام کرو۔بکر نے کہا تم میرے زیراحسان ہو اس لئے تم زید کا کام بالکل نہ کرو اور اس طرح ہمارے لئے اگر ہم دنیا کے سہارے ڈھونڈتے