خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 385
خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۵ خطبہ جمعہ ۸/نومبر ۱۹۶۸ء آٹھواں بنیادی نقص دنیا کے سہاروں میں یہ پایا جاتا ہے کہ چونکہ انسان کو کامل علم حاصل نہیں ہوتا اس لئے گو وہ بعض دفعہ نیک نیتی سے کسی دوسرے کو سہارا دیتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بڑا خطر ناک ہوتا ہے کیونکہ اس کو پتہ نہیں تھا کہ چھ ماہ کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ گویا علم کامل نہ ہونے کی وجہ سے دنیوی سہارے اپنے وقت پر آکر ٹوٹ جاتے ہیں اور اس انسان کو ایک عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں جس نے اپنے دوسرے بھائی پر بھروسہ کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ اگر انسان کے سر میں روشنی اور جلا ہو اس میں عقل ہو وہ ایک حد تک اپنے مفاد کا حقیقی علم رکھتا ہو اور حقیقی کامیابی چاہتا ہو تو اسے صرف اس ہستی پر توکل اور بھروسہ کرنا چاہیے جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام نقائص سے مبرا ہے۔فرمایا۔b اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ۔( يوسف : ۶۸ ) لفظ الله کے معنی اسلام، قرآن کریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد میں آنے والے لوگوں نے بالا تفاق یہ کئے ہیں کہ وہ وہ پاک ذات ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام کمزوریوں اور نقائص سے بری اور بالا ہے اور اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فیصلہ تو اسی اللہ ہی کا جاری ہونا ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور اس میں کوئی کمزوری اور نقص نہیں پایا جاتا۔یہاں گو متکلم کا صیغہ استعمال ہوا ہے لیکن ایک اصول بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ صرف اسی ذات پر ہی توکل کرنا چاہیے چنانچہ آگے اس کا بیان بھی ہو گیا ہے فرما یا عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ اگر کسی نے اعتماد اور بھروسہ کرنا ہوا گر کسی کو یہ احساس ہو کہ میں اکیلا اس دنیا میں امن کی اور آرام کی اور سکون کی زندگی بسر نہیں کر سکتا مجھے دوسروں کے سہارا کی ضرورت ہے تو اسے یا درکھنا چاہیے کہ اس کے لئے ایک ہی سہارا ہے جو کامل سہارا ہے اور جس پر پورا اعتماد کیا جاسکتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اگر سہارا دینے پر تیار ہو جائے تو پھر انسان کسی اور چیز کا محتاج نہیں رہتا وہی سب کچھ کر دیتا ہے عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ انسان نے اگر دنیا میں کسی کا سہارا لینا ہے اس نے کسی پر تو گل کرنا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ تم جھوٹے سہاروں کی بجائے بچے سہارے کی تلاش کرو اور کامل تو کل اپنے رب پر رکھو کامل اعتماد اس کا حاصل کرو اسی کو اپنا سہارا بناؤ۔