خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 368 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 368

خطبات ناصر جلد دوم ۳۶۸ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء لیکن بعض ایسے خاندان بھی ہوں گے جو اس لحاظ سے پاک نہیں ہوں گے کہ ان کے بچوں کی زبان پاکیزہ نہیں ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی زبانوں کو پاک کریں اور پاک رکھیں ان کی ڈیوٹی نہیں کہ ہمارے بچوں کی زبانیں گندی کر دیں منتظمین کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے بلکہ ہر احمدی جو یہاں رہتا ہے اس کا فرض ہے کہ جب اس کے کان میں کوئی گندی بات پڑے مثلاً کسی بچے نے گالی دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے اور اس کو گالی سے منع کرے لیکن آرام سے اور پیار سے منع کرے ڈانٹنے کی ضرورت نہیں وہ اسے سمجھائے کہ ربوہ میں گالیاں نہیں دینی چاہئیں اگر ایک بچہ کو گالیاں دینے کی عادت ہے اور جب بھی وہ گھر سے باہر نکلتا ہے اس کی زبان سے گند نکلتا ہے تو پچاس ہو، یا ڈیڑھ سو دفعہ جتنے بھی وہ مواقع اصلاح کے پیدا کرتا ہے پاس سے گذرنے والے بھائی کو اسے سمجھانا چاہیے اور کہنا چاہیے دیکھو یہاں ربوہ میں گالی نہیں دینی چاہیے گالی دینا تو ہر مسلمان کے لئے بڑی بات ہے لیکن یہ ربوہ ہے یہاں احمدی بستے ہیں یہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اس طرح دو چار دن میں اسے سمجھ آجائے گی لیکن اگر آپ کے کان میں گالی کی آواز پڑے اور آپ چپ کر کے آگے چلے جائیں اور اس کی طرف متوجہ نہ ہوں تو آپ گنہ گار ہیں کیونکہ آپ کا فرض تھا کہ آپ اس بچے کی اصلاح کرتے جیسے وہ اپنے والدین کا بچہ ہے ویسے ہی وہ آپ کا بھی روحانی بچہ ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے چھپڑ مارنے سے اصلاح نہیں ہوگی اور خصوصاً بچے کی اصلاح نہیں ہوگی ہاں ایک عمر ایسی بھی آتی ہے جب چپیڑ مارنے کی اجازت ہوتی ہے مثلاً نماز ہے اس کے لئے ایسی عمر دس سال بتائی گئی ہے دس سال سے پہلے چپیر مارنے کی اجازت نہیں لیکن دس سال کی عمر کے بعد اگر کوئی بچہ نماز میں شستی کرتا ہے تو اس کا والد یا سر پرست اس کو دو چار چپیڑ میں مار دیتا ہے، ڈانتا ہے یا دھمکی دیتا ہے تو یہ جائز ہے لیکن عام طور پر ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ اگر بچے کو چھیڑ مارنے کی ضرورت ہوتی تو ہمیں پیدائش کے وقت اس کے کان میں اذان دینے کی بجائے دو چار چپیڑ میں مارنے کا حکم ہوتا لیکن ہمیں حکم ہے اس کے کان میں اذان دو اس کا اثر بچہ پر بھی ہوتا ہے اور ہمیں بھی ایسا کرنے میں سبق دیا گیا ہے کہ بچے کے متعلق تمہارا یہ نظریہ غلط ہے کہ چونکہ یہ بچہ ہے اس لئے یہ بات نہیں سمجھتا کیونکہ لغو بات تو