خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 362 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 362

خطبات ناصر جلد دوم ۳۶۲ خطبه جمعه ۲۵ /اکتوبر ۱۹۶۸ء تھی پچھلے سال ان کی پیداوار ساڑھے تین سو اور چار سومن کے درمیان چلی گئی بہر حال میرے ذاتی علم میں بعض ایسے زمیندار ہیں جن کی آمدنیاں دو گنا ، تین گنا چار گنا یا پانچ گنا ہو گئی ہیں اگر کسی زمیندار کو اب دُگنی آمد ہو رہی ہے اور اس زائد آمد سے اس نے اگر پہلے تحریک جدید میں کچھ نہیں دیا تھا تو وہ اب اس چندہ میں کچھ دے اور اگر اس نے پہلے کم دیا تھا تو اب کچھ زیادہ دے دے اللہ تعالیٰ فضل کرے تو ان کی فصلیں بہت زیادہ اچھی ہو سکتی ہیں اور اس طرح ان کی آمد اور بڑھ سکتی ہے اور پھر ساتھ ساتھ دعا بھی کرے۔زمینداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے کھیتوں میں جا کر ضرور دعا کیا کریں اور خصوصاً وہ دعا کریں جو قرآن کریم نے سکھائی کہ مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ (الکھف: ۴۰) یہ دعا جو قرآن کریم میں آتی ہے یہ زمینداروں اور باغوں کے مالکوں کی دعا ہے اگر آپ یہ دعا کریں تو اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ آپ کے مال میں برکت دے آپ کی قربانیوں میں بھی برکت دے اور آپ کی اولاد میں بھی برکت دے ساری برکتوں سے آپ مالا مال ہو جائیں پھر دل میں یہ سوچیں کہ حقیر سی قربانیاں پیش کی تھیں اور ہمارا رب کتنا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے کہ اس نے کتنے ہی اچھے اور اعلیٰ نتائج ان کے نکالے ہیں دل میں تکبر اور ر یا نہ پیدا ہو۔(روز نامه الفضل ربوه ۲ نومبر ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۶ )