خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 316
خطبات ناصر جلد دوم ٣١٦ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء کروں گا۔دو دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک بیج اس مضمون کا میرے دماغ میں بو یا تھا میرا یہ تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنا فضل اور رحمت کرتا ہے تو کوئی نیا مضمون بیج کے طور پر میرے دماغ میں ڈال دیتا ہے۔ایک دفعہ مجھے خواب میں بھی بتایا گیا تھا کہ جتنا زیادہ مجاہدہ اور کوشش تم کرو گے اتنے ہی زیادہ علوم قرآنی تمہیں سکھا دئے جائیں گے پس قرآن کریم کے علوم جو میں بیان کرتا ہوں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ ہی سکھاتا ہے وہ علوم اللہ تعالیٰ ایک بیج کی شکل میں میرے دماغ میں ڈالتا ہے پھر میرے مجاہدہ، کوشش اور سوچنے کے نتیجہ میں وہ ایک مدوّن شکل اختیار کر جاتا ہے اور یہ سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ہے اور یہی سچ ہے۔فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔میری صحت بالکل اچھی ہے الْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِكَ لیکن چونکہ ابھی گرمی ہے اس لئے میں کبھی گرمی سے تکلیف محسوس کرتا ہوں کراچی جانے سے پہلے مجھے لو لگ گئی تھی جس کو انگریزی میں ہیٹ سٹروک کہتے۔اس بیماری کا لمبے عرصہ تک اثر رہتا ہے میں اپنے کمرہ سے جو ٹھنڈا ہے زیادہ عرصہ باہر رہوں تو طبیعت میں بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے اور یہ کیفیت بھی دور ہو جائے اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اس کی برکتوں کو اپنے دامن میں لئے بارش ہو جائے اور ٹھنڈ ہو جائے۔روز نامه الفضل ربوہ یکم اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا۷ ) 谢谢谢