خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 314

خطبات ناصر جلد دوم ۳۱۴ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء راجباہوں اور نالیوں کا کام دیا جو دریا کے پانی کو اس دنیا میں مختلف کھیتوں میں لے جاتی ہیں یہ لوگ اپنی اپنی استعداد کے مطابق تھوڑے یا بہت کھیت روحانی طور پر سیراب کرنے کا موجب بنے پانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ریا تو وہی ہے چشمہ فیض تو وہی ہے لیکن ہم عام محاورہ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں مجدد یا خلیفہ کا پانی ہے جس طرح ہم کہتے ہیں کہ یہ کھا در برانچ کا پانی ہے ہم یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں میں نے مثالیں دے دی ہیں ایک مثال روحانی دے دی ہے اور ایک جسمانی دے دی ہے تا یہ بات سمجھ آجائے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں ( اگر ایک ہی وقت میں دونوں مثالیں دی جائیں ) کہ یہ روحانی پانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ روحانی پانی دوسری تیسری یا چوتھی یا پانچویں صدی کے مجدد کا ہے یا خلفائے راشدین کا ہے اس لئے کہ ہر ایک شخص سمجھتا ہے کہ اگر اس کھال میں یا اس راجبا ہے میں یا اس نہر میں منبع سے پانی نہ آئے تو یہ خشک ہے اور اس میں کوئی روحانیت نہیں اس کے اندر کوئی پانی نہیں اور چونکہ یہ چیز واضح اور بین ہے اس لئے ہم کہہ دیتے ہیں کہ مثلاً ان کھیتوں کو کھا در برانچ کا پانی مل رہا ہے اب کھا در برانچ یا کسی اور برانچ کو پانی کہاں سے مل رہا ہے وہ یا تو دریائے جہلم کا پانی ہے یا دریائے چناب کا پانی ہے یا دریائے سندھ کا پانی ہے۔کھادر برانچ میں پانی کہاں سے آیا تھا؟ اگر وہ دریا سے پانی نہ لیتی تو اس میں پانی نہ آتا اسی طرح ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ خلفاء راشدین کا پانی ہے خلفائے راشدین کے پاس پانی کہاں سے آیا وہ ان کے پاس آ ہی نہیں سکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ پانی حاصل نہ کریں جو دنیا میں حیات روحانی کا باعث بنتا ہے لیکن چونکہ یہ بات عام اور واضح ہے اس لئے ہم اپنے محاورے میں کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مجدد نے اتنا کام کیا اور اس قسم کی روحانی برکتیں اس کے ذریعہ سے جاری ہو ئیں حالانکہ ہر ایک کو پتہ ہے کہ نہ اس نے اپنے طور پر کوئی کام کیا، نہ کوئی روحانی برکتیں اس کے ذریعہ سے جاری ہو سکتی تھیں جب تک کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زندگی حاصل نہ کرتا وہ آپ کے نور سے نور نہ لیتا آپ کے فیوض اور برکات میں حصہ دار نہ بنتا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی رحمت سے ایسا کرنے کی توفیق عطا کی اور اس کی دعاؤں کو اور اس کے مجاہدات کو اور اس کے اعمالِ صالحہ کو