خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 303 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 303

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء مستقل وجود نہیں رکھتی۔اس وجود کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ سب مل کر سب کے لئے دعائیں کرتے ہیں گویا کہ ایک ہی وجود اپنے لئے دعائیں کر رہا ہے اور جس وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں رحمت خدا وندی جوش میں آتی اور اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے تو اس جماعت کا کوئی ایک شخص بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ جماعت سے علیحدہ کوئی وجود ہے جس کی دعا قبول ہوئی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تدلى بنی نوع انسان کی وحدت تامہ کا متقاضی ہے آپ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی حالت ایک وجود کی سی ہے اگر کسی ایک کو کوئی تکلیف پہنچے کوئی پریشانی ہو تو سارا وجود پریشان ہوتا اور اس کی نیند اس پر حرام ہو جاتی ہے۔پس جماعت مومنین دراصل اس زاویہ نگاہ سے ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرنے والی ایک عالمگیر برادری ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو بحیثیت جماعت اور ان کی دعاؤں کو جو اجتماعی رنگ رکھتی ہیں قبولیت کا وعدہ بھی دیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کی برکت سے ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے یہ جلوے اپنی زندگیوں میں ہر گھڑی دیکھ رہے ہیں کسی ایک شخص کی دعا بھی اس جماعت میں سے اس فرد واحد کی دعا نہیں ہوتی کیونکہ اگر وہ واقعہ میں ایک سچا مسلمان اور حقیقی مومن ہے تو اس کی دعائیں قرآن کریم میں بتائی ہوئی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہوں گی اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جس وقت یہ جماعت دعاؤں میں مشغول ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق مشغول ہوتی ہے تو اس کے دو خارجی نتیجے نکلتے ہیں۔ایک خارجی نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ اس جماعت کو ملائکہ کی دعائیں حاصل ہو جاتی ہیں اور دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ (اگر چہ انسان جب تنزل کی راہوں کو اختیار کرتا اور شیطان سے پیوند جوڑتا ہے تو کتوں اور سؤروں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے لیکن ) جب وہ خدا کی رحمت سے روحانی رفعتوں کو حاصل کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی اوپر جا پہنچتا ہے اس کی ( یا اس گروہ کی ) دعاؤں کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی دعائیں مل جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے یہ وارث بن جاتے ہیں اور یہ دوسرا خارجی نتیجہ جو نکلتا ہے۔