خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 297
خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۷ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۶۸ء الظَّلِمُونَ (يوسف : ۲۴) ظالم لوگ وہ فلاح حاصل نہیں کیا کرتے جس فلاح کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مظلوم کے لئے ، مومن کے لئے ، قربانی اور ایثار کے نمونے دکھانے والوں کے لئے ، اس کی راہ میں دکھ اور درد اور مشقت برداشت کرنے والوں کے لئے دیا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ جب یہ کہا گیا کہ ظالم فلاح حاصل نہیں کر سکتے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ إنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشوری: ۴۱ ) وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم کر دیئے جاتے ہیں پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی محبت تمہیں حاصل رہے اور تمہیں وہ کامیابی حاصل ہو جس کامیابی کا وعدہ قرآن کریم نے تمہیں دیا ہے تو یا درکھو کہ یہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ خودا اپنے فضل اور رحم سے ہدایت کے سامان پیدا نہ کر دے پس کبھی ظالم بنے کی کوشش نہ کرو، کبھی کسی پر ظلم نہ کرو کبھی ایسے حالات پیدا نہ کرو کہ دنیا میں تمہارے ملک یا علاقہ یا شہر اور گاؤں میں فسادات پیدا ہو جا ئیں ہر دکھ کو خدا کے لئے برداشت کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَأَوذُوا فِي سَبِيلِي (ال عمران : ۱۹۶) جو لوگ اس کی راہ میں ایذا اُٹھاتے ہیں تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے رضا کی جنت کے سامان پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہترین جزا دینے والا ہے۔پس یہ تو صحیح ہے کہ ہم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ہمارے مالوں میں بھی امتحان اور ابتلا کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور جانوروں کے متعلق بھی اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میری راہ میں بہت دکھ دینے والا کلام سنو گے اور جب تم یہ دکھ دینے والا کلام سنو یا دیواروں پر دکھ دینے والی باتیں لکھی ہوئی دیکھو تو یہ یا درکھو کہ جنہوں نے میری رضا کی جنت حاصل کرنی ہو وَ أَوذُوا فِي سبیلی جب انہیں میری راہ میں اذیتیں پہنچائی جائیں تو انہیں صبر کرنا چاہیے اور صبر کا نمونہ اس قسم کا دکھانا چاہیے کہ وہ معجزانہ رنگ اپنے اندر رکھتا ہو یعنی دنیا یہ دیکھ کر حیران ہو کہ اگر اس سے نصف گالیاں بھی دوسروں کو دی جاتیں تو وہ فساد پیدا کر دیتے اور اپنے علاقہ میں قوم کا امن برباد کر دیتے وہ یہ دیکھ کر حیران ہو کہ ان لوگوں کو اذیتیں دی جاتی ہیں، گالیاں دی جاتی ہیں پھر ان ہستیوں کو بھی جنہیں یہ ا پنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز اور پیاری سمجھتے ہیں گالیاں دی جاتی ہیں ان کے دلوں کو ، ان کے جذبات کو چھلنی چھلنی کر دیا جاتا ہے لیکن یہ لوگ اُف نہیں کرتے ، مقابلہ پر نہیں