خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 287
خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۷ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء شیطان ذریعہ بنائے گا اس بات کا کہ خدا کا ایک بندہ اپنے ربّ کو بھول جائے اور اس کے ذکر سے غافل ہو جائے اور رب کے ذکر سے غافل ہو گا وہ انصار اللہ کیسے بنا تو فرمایا کہ ہر وقت چوکس اور بیدار ر ہواگر شیطان مال کے رخنہ سے تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا چاہے یا اگر شیطان تمہارے بچوں کو تمہارے روحانی اموال لوٹنے کے لئے بطور چور کے استعمال کرنا چاہے تو اس کو اس میں کامیاب نہ ہونے دینا بلکہ کوشش یہ کرنا کہ تمہارے اموال شیطان کو شکست دینے والے اور تمہارے بچے شیطان کے خلاف صف آرا ہونے والے ہوں یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں اور انتخاب بھی صرف ان آیات کا کیا ہے جن میں مومن کو مخاطب کر کے ایمان کا تقاضا بتایا ہے بڑی وضاحت کے ساتھ۔تو بنیادی چیز اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے یہ ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی معرفت کو حاصل کریں اور جو شریعت ہماری روحانی تقلید کے لئے اس نے نازل کی ہے اور جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اس کی بہترین رحمتوں کے وارث بن سکتے ہیں اس شریعت پر چلنے والے ہوں اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا کے لئے بطور ایک نمونہ کے پیدا کیا اور مبعوث کیا آپ کے اُسوہ کے مطابق اور آپ کے اُسوہ کی اتباع کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔یعنی ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ اس کی رحمت کے سارے ہی دروازے ہمارے لئے کھل جائیں اور یہ اس کی توفیق سے ہوسکتا ہے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )