خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 286

خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۶ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء اور تقاضا یہ ہے۔یااَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَومِ (الحجرات : ۱۲) کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا تمسخر نہیں کرنا ایمان کا ایک اور تقاضا یہ بتایا کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ (الحجرات : ۱۳) بدظنی سے بچتے رہنا ایک اور ایمان کا تقاضا یہ بتایا کہ یایھا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: (۳) نمائش کرنے والے اپنی طرف ایسی نیک باتیں بھی منسوب کر دیا کرتے ہیں جو حقیقتا ان کا حصہ نہیں ہیں اس سے ہمیشہ پر ہیز کرنا چاہیے کیونکہ رحمت کے دروازے تو اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادے سے کھلتے ہیں اگر ساری دنیا کسی ایک انسان کے لئے اللہ کی رحمت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی تو غلط کریڈٹ لینا اس سے کوئی فائدہ نہیں انسان نے انسان کو کیا دینا ہے اگر خدا تعالیٰ کا منشا نہ ہو اور اگر خدا نے دینا ہے تو وہ ضرور دے گا اسے معلوم ہے کہ تم نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا ایمان کا ایک اور تقاضایہ فرمایا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ (الصف: ۱۵) ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں گذرے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ کے دین کو استحکام اور اس کی اشاعت کے سامان پیدا ہوں اگر کوئی شخص مسلمان ہونے کا اسلام لانے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس اسلام کے استحکام کے جذبات اس کے دل میں نہیں اور اشاعت اسلام کی کوشش اس کے اعمال کا حصہ نہیں تو پھر وہ مومن کیسا وہ ایمان کیسے لایا تو فرمایا کہ تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ تم انصاراللہ بنو۔اگر حقیقتاً تم اللہ کے دین کے مددگار نہیں ہو گے تو تمہیں رحمت الہی نصیب نہیں ہوگی جیسے دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ کی نصرت انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو اس کے دین کی نصرت میں ہر وقت لگے رہتے ہیں۔فرمایا انصار اللہ بننے میں تمہارے اموال اور تمہاری اولا دروک بنے گی شیطان تمہارے اپنے ہاتھ سے محنت سے بلکہ محنت شاقہ سے کمائے ہوئے اموال کو اور تمہاری محبوب اور پیاری اولا د کو بڑے اچھے بچوں کو تمہارے ایمان کے راستہ میں روک بنانے کی کوشش کرے گا تو تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم شیطان کی اس چال میں نہ آؤ فرمایا۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ ولا اَوْلَادُكُمُ عَنْ ذِكرِ اللهِ (المنافقون: ۱۰) اموال کو شیطان ذریعہ بنائے گا اور اولا د کو بھی