خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 284
خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۴ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو رزق ہم نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے ان میں صرف ان رزقوں کو اور صرف اس حد تک استعمال کرو جو جائز اور پاک راہوں سے حاصل ہوں اور جس حد تک تمہیں استعمال کی اجازت دی گئی ہو اور پھر تم یہ مجھو کہ جو مال کمایا تو پاک راہ سے ہے لیکن جس کا استعمال طیب نہیں ہے اس کو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت خرچ کرو۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنَا رزَقْنَكُم (البقرة : ۲۵۵) ہمارے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تم اسے خرچ کرو اشاعت اسلام کے لئے۔قرآن کریم کے تراجم کے لئے ، اسلام کے احیاء کے لئے اور استحکام کے لئے، ہزار راہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس حد تک تم۔۔۔استعمال جائز ہے اپنے مالوں میں سے ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اس میں بھی مضمر ہو گی لیکن جو راہیں ہم بتاتے ہیں تو جب ان راہوں پر تم خرچ کرو گے تو تمہارے لئے یہ طیب ہوگا۔فرمایا کہ جب ہمارے کہنے کے مطابق تم مال کو خرچ کرو گے اور اس خرچ میں سے مستحق کو دو گے تو پھر شیطان آجائے گا وہ کہے گا کہ یہ خدا کا بندہ تو ثواب حاصل کر رہا ہے وہ ہمارے دل میں مختلف وسو سے پیدا کرے گا اس سے ہوشیار رہنا۔يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُم بِالْمَنَّ وَالْأَذَى - (البقرة: ۲۶۵) یا د رکھنا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی مستحق کو تم نے مال دیا خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے تو اس پر احسان کبھی نہ جتلانا اور اگر تم نے خدا کی رحمت کے وارث بننے کے لئے اپنے مال سے کچھ دیا ہے تو کبھی کوئی ایسا طریق نہ اختیار کرنا جو اسے تکلیف پہنچائے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ بعض گھرانوں کے لوگ بعض مستحقین کی کچھ مدد کر تے ہیں لیکن بعد میں یہ اُمید رکھتے ہیں کہ وہ سارا دن ان کے کام میں بغیر تنخواہ کے لگے رہیں یا ان کی خوشامد کریں یہ ان کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے ایک حکم کی تعمیل جو تم کرو گے اور آنْفِقُوا مِنَا رَزَقْنَكُمْ پر عمل کرو گے تو شیطان تمہیں تمہارے نیک عمل کو ثواب سے محروم کرنے کے لئے تمہارے دل میں وسوسے اور شیطنت کے خیالات ڈالے گا اور کہے گا بڑا احسان کیا ہے تم نے اس شخص پر اس کا فرض ہے کہ شکر کے طور پر اب تیری خدمت میں لگ جائے شیطان کے اس قسم کے وسوسوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھو یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ایک اور تقاضا