خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 283

خطبات ناصر جلد دوم ۲۸۳ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء ہو جاتی تھی اور اب یہ حال ہے کہ سینکڑوں ہزاروں مسلمانوں کے بچے عیسائی ہورہے ہیں اور کسی کو فکر نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے درد سے اس کو بیان کیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ زندہ قوموں میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا کیونکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ایک وقت میں عَذَابِ الیم کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی درگاہ سے وہ انسان یا وہ قوم جو ان حالات کو دیکھتے ہوئے مدد چاہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مدد کو آئے گا۔ایک اور تقاضایہ بتایا کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَةً (البقرة :٢٠٩) کہ تم سب مل کر فرمانبرداری کے دروازہ کی حدود کے اندر آجاؤ لیکن اس بات کا خیال رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص بھی ان حدود سے باہر نہ نکلے نہ نکلنے کی کوشش کرے۔تربیت کا اہم گر اس آیت میں بتایا گیا ہے یوں تو کہا کہ لَا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم ( المائدة : ۱۰۶) لیکن یہ نہیں کہا کہ اگر تم ہدایت پا جاؤ تو جو لوگ ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں تمہاری کوششیں ان کے لئے بے نتیجہ نکلیں گی بلکہ یہ کہا کہ فرمانبرداری اور اطاعت کے دائرہ میں سارے کے سارے آ جاؤ جو کمزور ہیں کبھی غفلت سے کبھی لا پرواہی سے کبھی ہوائے نفس کے نتیجہ میں کبھی شیطان کے وسوسہ میں پھنس کر حدود سے باہر نکلنے لگتے ہیں ان کو وہاں سے پکڑو اور دائرہ کے اندر لے آؤ تاکہ ساری قوم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی وارث بنتی رہے۔ایمان کا ایک تقاضا یہ فرمایا۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمُ (البقرۃ:۱۷۳) یعنی تمہارے آج کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نے اس دنیا میں بنی نوع انسان کے لئے جو رزق پیدا کئے ہیں ان میں سے تم ایسے رزق کو استعمال کرو جو جائز اور پاک راہوں سے تم نے حاصل کیا ہو اور وہ اسی قدر استعمال کرو جو تمہارے لئے جائز اور پاک ہو یہ دونو مفہوم طیبات کے اندر آ جاتے ہیں مثلاً زکوۃ ہے جب تک زکوۃ نہ نکالی جائے انسان کا اپنا کمایا ہوا مال اس کے لئے پاک نہیں بننا فرض کرو خیرات ہے بھوکے کو کھانا کھلانا ہے، ننگے کو کپڑے دینا ہے، بیمار کے علاج کا انتظام کرنا ہے جب یہ تمام ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا وہ اگر چہ جائز اور پاک راہ سے مال کما رہا ہے لیکن جو خرچ کر رہا ہے وہ اس کے لئے جائز اور پاک نہیں ہے کیونکہ اس نے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ فرماتا