خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 267
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۶۸ء نہیں کیا کہ تم شیطان کی پیروی اور اس کی عبادت اور اس کی شباہت اختیار کرنے کی کوشش نہیں کرو گے اور اس کے مقابلہ میں تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے ، اس کی معرفت اور اس کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرو گے اور اس کی صفات جس رنگ میں ہماری اس دنیا میں ہم سے تعلق رکھنے والی ظاہر ہوتی ہیں ان صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرو گے۔جس طرح وہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اسی طرح تم بھی اپنے بھائیوں اور اللہ کے بندوں پر رحم کرو گے جس طرح وہ اپنے بندوں کو حلال اور طیب رزق پہنچاتا ہے اسی طرح تم کوشش کرو گے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا محتاج نہ رہے جس کو ضروریات زندگی بھی میسر نہ آئیں۔جس طرح وہ اپنی رحیمیت کے جلوے دکھلاتا ہوا بغیر اس کے کہ ہمارا اس پر کوئی حق ہو کہ وہ ہمارے عمل کی پاداش میں ہمیں کچھ عطا کرے گا اور اس کا اچھا نتیجہ نکالے گا تو وہ عمل کرنے والوں کے عمل کے مطابق خود نتیجہ نکالتا ہے۔وہ لوگ جن سے تم کام لیتے ہوا گر وہ اپنے حق کو ادا کر دیں تو تم بھی ان کے حق کو ادا کر دیا کرو ان کی مزدوری کم نہ کیا کرو۔اس سے بڑے فتنے پیدا ہوتے ہیں۔دنیا میں اکثر انقلاب اللہ تعالیٰ کی صفت رزاق کے مطابق اپنی صفت کو نہ بنانے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔انسان یہ تو سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ رزاق ہے اور اسے مجھے رزق دینا چاہیے۔لیکن وہ اپنی اس ذمہ داری کو نہیں سمجھتا کہ مجھے بھی اس صفت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا چاہیے اور خدا کے بندوں کے متعلق جو میرے کندھے پر حقوق رکھے گئے ہیں ان حقوق کو ادا کرنا چاہیے تو اس آیت میں جو سورۃ یسین کی ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر بیان کی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے عہد کو پورا کیا اور انہوں نے آخر وقت تک ثبات قدم دکھلایا۔یا ایک دوسرا گروہ ہے جو انتظار کر رہے ہیں اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق دیتا چلا جائے گا اور جب ان کے انجام کا وقت آئے گا تو اس وقت بھی ان کا رب انہیں ثابت قدم اور وفا کا پتلا دیکھے گا اور اسی کے مطابق ان سے سلوک کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ یہ بھی بتایا ہے کہ جو لوگ صدق نہیں دکھلاتے عہد کو تو ڑ دیتے ہیں وہ اصولی طور پر دو وجہ سے عہد کو توڑتے ہیں ایک اس لئے کہ وہ شیطان اور شیطان کی ذریت سے خوف کھانے لگتے ہیں اور اس ڈر کے نتیجہ میں وہ اس عہد کو بھول جاتے اور توڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو انہوں