خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 261

خطبات ناصر جلد دوم ۲۶۱ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء چاہتا ہے کہ ہم کریں اور اس کے نتیجہ میں اے ہمارے رب ! روحانی طور پر ہمیں زندہ کر دے تا کہ ہمارا تعلق تیرے ساتھ قائم ہو جائے تو یہاں یہ فرمایا کہ جو شخص روحانی زندگی کے نتیجہ میں زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی پیروی کرے قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے ذریعہ ہی یہ روحانی زندگی حاصل کی جاسکتی ہے جیسا کہ سورۃ انفال میں فرمایا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُم - (الانفال: ۲۵) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کو دعوت دے رہے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہے کہ جو ان کی آواز پر لبیک کہے وہ روحانی زندگی کو حاصل کرے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمی میں حاشر ہوں کہ ایک روحانی حشر بر پا کرنے کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور جو میرے قدموں پر گر جاتا ہے وہ زندہ کیا جاتا ہے اور روحانی زندگی کے ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے اور قائم کیا جاتا ہے تو جو شخص روحانی زندگی کا اُمید وار ہو جو اس چیز کا امیدوار ہو کہ روحانی زندگی کے بعد اپنے زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق کو قائم کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جسے ابدی حیات دی گئی ہے اس کے ساتھ اس کا سچا تعلق قائم ہو جائے اور اس کی سنت کی وہ پیروی کرنے والا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیں۔پھر اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَأَيَّدَهُم بِرُوحِ مِنْهُ - (المجادلة: (۲۳) یعنی ان کی روح القدس کے ساتھ مدد کی گئی اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قوتیں پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور برا بین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں۔اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی طور پر بغیر اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو