خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 255

خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۵ خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۶۸ء جس طرح پانی اگر صاف اور پاکیزہ ہو اور کپڑے کو پتھروں پر مار مار کر دھویا جائے اور اسے صاف کرنے پر پوری توجہ دی جائے تو برف کی طرح وہ کپڑا صاف ہو جاتا ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے آپ نے جو اُسوہ دنیا میں قائم کیا ہے اس کی در پیروی کرتے ہوئے آپ کی بتائی ہوئی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے ہم اپنے نفس کو اپنی روح کو اس رنگ میں پاک کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نگاہ اس پر پڑے ”یر جوا اللہ “ کے ایک معنی یہ ہوئے کہ جو شخص اس پاک ذات سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اسے یہ یا درکھنا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی ضروری ہے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا یا کم از کم کامل اتباع کرنے کی کوشش نہیں کرتا اس کے اندر بہت سی ایسی ناپاکیاں رہ جائیں گی جو اللہ تعالیٰ کو بیزار کرنے والی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اسے محروم کر دینے والی ہوں گی اس لئے اگر اس پاک کی محبت چاہتے ہو تو اس پاک نمونہ کی کامل اور مکمل اتباع کرو اس کے بغیر خدا تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک نہیں کرے گا۔يَرْجُوا اللہ کے تفصیلی معنی ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسا نور عطا کیا ہے جو کائنات میں سے کسی اور کو عطا نہیں ہوا اس لحاظ سے انسان تمام مخلوقات میں ممتاز ہے یہ نور دنیا کی کسی اور چیز کو نہیں دیا گیا حتی کہ سورج میں بھی یہ نو رنہیں ، چاند میں بھی نور نہیں ہیروں میں بھی یہ نور نہیں، دنیا کی کسی شے میں بھی وہ نور نہیں جو انسان کو دیا گیا انسانوں میں سے جس نے اس نور کو اتم طور پر اور اکمل طور پر اور ارفع اور اعلیٰ طور پر حاصل کیا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ جو نُورُ السّبوتِ ہے اس کے نور سے حصہ لے اللہ تعالیٰ کے نور کی کرنیں اسے ڈھانک لیں اس نور کی چادر میں شیطانی وسوسہ داخل نہ ہو سکے اور ظلمات میں سے کوئی ظلمت اس کے خانہ دل کا رُخ نہ کر سکے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جو کامل اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نور بن کے دنیا میں نور پھیلانے کے لئے مبعوث ہوا (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کی وہ اتباع کرے کیونکہ جو شخص اس کی اتباع کرتا ہے وہ اس کی اتباع کے طفیل اللہ کے نور سے اسی طرح اپنی استعداد کے مطابق اور اپنے مجاہدہ کے مطابق نور حاصل کرتا ہے جس طرح کامل مجاہدہ ،