خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 254
خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۴ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء تفاصیل بیان ہوئی ہیں۔سورۃ احزاب میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی تشریح کرتے ہوئے کئی باتیں ہمارے سامنے رکھی ہیں جن میں سے بعض کے متعلق میں آج سے قبل کچھ کہہ چکا ہوں آج میں سورۃ احزاب کی بائیسویں آیت لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ کے متعلق کچھ کہوں گا۔حصولِ رحمت کی ایک اور راہ خدا تعالیٰ نے (جسے شاہراہ کہنا چاہیے جو بڑی وسیع ہے اور برکتوں والی ہے ) ہمیں یہ بتائی ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امیدرکھتے ہیں تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔رجا کے معنی ہیں یہ امید اور یقین رکھنا کہ مسرت کے سامان پیدا ہوں گے ان معنی کی رو سے کر جوا اللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ہر وہ شخص جو اُمید اور یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے مسرت کے سامان اپنے فضل اور رحمت سے پیدا کرے گا تو اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ رحمت کے یہ سامان اس کے لئے اسی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے والا ہو۔یہاں يَرْجُوا الله کے متعدد معانی کئے جا سکتے ہیں اپنی تفاصیل کے لحاظ سے ان متعد د معانی میں سے آج کے لئے میں نے پانچ معنوں کا انتخاب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور نقص سے منزہ ہے کوئی عیب ہم اس کا مل ہستی کے متعلق اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتے وہ پاک ہے اور پاکیزگی سے محبت رکھتا ہے اور پاک ہی کو قرب عطا کرتا ہے۔پس جس شخص نے خدا تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی ایسے رنگ میں پاک ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ جس سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی اسے ہر زاویہ سے پاک یا پاک ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھے یہ پاکیزگی اگر ہم نے حاصل کرنی ہو تو اس کے لئے ہمارے واسطے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی کرنے والوں میں سے بن جائیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو “ 66