خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 242
خطبات ناصر جلد دوم ۲۴۲ خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۶۸ء اُمید رکھتے ہیں کہ وہ بغیر حساب کے دنیوی اور اُخروی نعمتیں ہمیں عطا کرے گا اس لئے ہماری عقل یہ کہتی ہے ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ جب بغیر حساب کے تم اس کی نعمتوں کے حصول کے امیدوار ہو تو پھر بغیر حساب کے اس کا شکر بھی ادا کرو ویسے تو مختلف وظیفے یا تسبیحیں یا درود جو بڑا درود ہے جو ہم نماز میں بھی پڑھتے ہیں وہ بھی ضرور پڑھنا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی مصلحت نے اس شکل میں بھی اسے اب ہمارے لئے اتارا ہے تو اس زمانہ کے لئے اس میں بھی بڑی برکت ہے۔وہ جو پرانا طریق ہے اس میں بھی بڑی برکت ہے یہ تو نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ آدھی برکتیں تو ہم لیتے ہیں اور آدھی ہمیں مل بھی سکتی ہیں تو ہم نہیں لیتے کسی کو دس اور دس بیس روپے دیئے جائیں تو وہ یہ نہیں کہتا کہ دس مجھے دے دو اور دس میں نہیں لیتا۔دنیا کے عارضی بے حقیقت سامانوں کے متعلق جب ہماری فطرت زیادہ سے زیادہ کی خواہش رکھتی ہے اور جب بہک جاتی ہے تو ناجائز ذرائع سے بھی حصول کی کوشش کرتی ہے لیکن روحانی نعمت کے متعلق تو کوئی کہ نہیں سکتا کہ اتنی مجھے چاہیے اس سے زیادہ نہیں چاہیے جتنی زیادہ سے زیادہ مل سکے اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے ان طریقوں پر جو خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقوں کو چھوڑ کر اپنے لئے اپنی مقرر کردہ راہیں متعین کرتا ہے وہ خدا کی طرف نہیں لے جاسکتیں کیونکہ یہ خدا کی بتائی ہوئی نہیں اگر دل کا وسوسہ ہے تو وسوسہ کا منبع چونکہ شیطان ہے شیطان کی طرف اسے شاید لے جائیں۔قرآن کریم نے جو بتایا جہاں حد بندی کی اس سے آگے نہیں جانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بتایا جہاں حد بندی کی اس سے آگے نہیں جانا جہاں حد بندی نہیں کی عام حکم دیا ہے قرآن کریم نے کہا ذ کر کثیر کر و قرآن کریم نے کہا ہے صبح و شام اس کی تسبیح کرو یہ نہیں کہا پانچ دفعہ کرو یہ نہیں کہا پانچ ہزار دفعہ کرو تو سارا دن مشغول رہنا چاہیے اس میں جو تعیین کی جاتی ہے صرف کم سے کم دفعہ کی جاتی ہے تاکہ ساری جماعت کا معیار کچھ اونچا ہو جائے مثلاً ایک وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس وقت کے حالات کے مطابق بارہ کی تعیین کی تھی اس بارہ میں بھی بعض جاہلوں نے آپ پر اعتراض کر دیا تھا کہ بارہ کی تعیین کیوں؟ یہ بھی بدعت ہے آپ نے انہیں یہ جواب دیا جو ابھی میں نے کہا ہے کہ جب معین میں غیر معین شامل ہو تو مجموعی طور پر