خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 214
خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۴ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۶۸ء چند سال یا کچھ عرصہ اس ملاپ کے لئے انتظار کرنا اور خدا کی خاطر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے کرنا کوئی بڑی قربانی نہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ غرض ایک مشقت ، تکلیف ، اور دکھ انسان کو حوادث زمانہ کے نتیجہ میں برداشت کرنا پڑتا ہے اور ایک وہ دکھ ہے جو الہی سلسلوں کے مخالفین پہنچاتے ہیں ایک مسلمان کو اس ابتلا میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھوڑی تعداد میں تھے غریب تھے جنگ کی کوئی تربیت انہیں نہیں تھی ان کے پاس جنگ کا کوئی سامان نہ تھا اچھی تلواریں نہیں تھیں گھوڑے نہیں تھے کچھ بھی نہ تھا اور دشمن نے یہ سمجھا کہ ان نہتوں اور بے بسوں کو ہم اچھی تلواروں کے استعمال سے کاٹ کے رکھ دیں گے اور فنا اور نابود کر دیں گے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو کہا کہ میری خاطر ان تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور میرا تم سے یہ وعدہ ہے کہ تم کمزور ہی ہم غریب سہی، تم نہتے سہی تم بے سروسامان سہی لیکن میں تمہاری پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوں گا اس لئے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں آخر غلبہ تمہیں حاصل ہوگا۔غرض کئی قسم کے دکھ ابتلا اور مشقت انسان کو خدا کی راہ میں پیش آتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آئے اس سے انکار نہ کرے اور آپ نے یہ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر، آپ کے سوانح پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ آپ نے خدا کی راہ میں اپنی جان کی کبھی پروانہیں کی جنگ بدر میں جب کفارِ مکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے تو آپ مدینہ میں نہیں بیٹھے رہے بلکہ جس طرح دوسرے مسلمان میدان میں گئے آپ بھی میدان میں گئے اور آپ ہی سب سے زیادہ دشمن کے حملہ کا نشانہ ہوتے تھے کیونکہ دشمن یہ جانتا تھا کہ اگر اس ایک شخص کو ( علیہ السلام ) ( نعوذ باللہ ) ہم نے قتل کر دیا تو پھر کسی اور کوشش کی ضرورت نہیں رہے گی اسلام ختم ہو جائے گا۔صحابہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ شدید تر حملہ دشمن کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ہوتا تھا اور بہادر ترین صحابہ وہ سمجھے جاتے تھے جو آپ کے قُرب میں رہتے تھے مثلاً حضرت ابوبکر کے متعلق تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ یہ سب سے زیادہ بہادر