خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۶۸ء کی بدعتیں بھی ہیں اسی طرح حج کی بدعتیں بھی ہیں اسی طرح زکوۃ کی بدعتیں بھی ہیں ہر حکم جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا شیطان نے پوری کوشش کی کہ اس کے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دے کہ جو حقیقت سے دور اور خالص بدعت ہیں۔پس إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الاسلام کے یہ معنی ہیں کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس سے زائد ، اس سے باہر ، اس کے مخالف کوئی قانون نہیں بنانا کیونکہ نہ عقلاً (اگر اپنے عقائد پر صحیح طور پر قائم ہوں تو ہماری عقل بھی یہی کہے گی ) نہ شرعا کوئی ایسی چیز عمل یا عقیدہ قرب الہی تک پہنچا سکتی ہے جس کا حکم قرآن حکیم نے نہ دیا ہو کیونکہ قرآن کریم ایک مکمل شریعت کی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے لیکن بہت سی بدعتیں عبادات ہیں، بہت سی بدعتیں ایمانیات کے متعلق آہستہ آہستہ ہم میں آگئیں اور خدا تعالیٰ کے بندے چودہ سو سال میں کھڑے ہوتے رہے ان کے ذمہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ کام لگا یا گیا کہ ان بدعتوں کو پکڑو اور حقیقت وصداقت سے جھٹکا دے کر علیحدہ کرو اور پرے پھینک دو۔ان کی مخالفتیں بھی ہوئیں، ان کو ایذائیں بھی پہنچیں ، ان کو دکھ بھی دئے گئے ، ان پر افترا بھی باندھے گئے ، ان پر اتہام بھی لگائے گئے لیکن خدا کے وہ پیارے بندے خدا کے حکم کے ماتحت اس فرض کو ادا کرتے رہے جو ان کے کندھوں پر ڈالا گیا تھا۔غرض اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ کے ایک معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور اس سے پر ہیز کرنا چاہیے۔۱۱۔گیارھویں معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرے۔یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک فقرہ میں اس ٹکڑہ کے تفسیری معنی کئے ہیں لیکن جہاں آپ نے یہ تفسیری ترجمہ کیا ہے وہاں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مختلف قسم کی تکلیفیں اور مشقتیں اور دکھ سہنے پڑتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعدد جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے ایک مشقت شریعت کی ہے مثلاً یہ مستحب بلکہ بڑا اچھا ہے کہ جس نے مقام محمود فلی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کرنا ہو اسے تہجد کی نماز