خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 181 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 181

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۱ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء مطلب یہ ہے کہ کینتھو کس اور پر ٹسٹنس جو ہیں ان میں تعداد میں اختلاف ہے۔بعض کتب ایسی ہیں جو کیتھولیزم ان کو آسمانی کتاب کہتا ہے پر انسٹنٹس نہیں مانتے۔ان کی زیادہ ہیں اس واسطے ہم اس ۷۲ 2۔جھگڑے میں پڑے بغیر کہ تمہارا کتابوں کی تعداد میں بھی اختلاف ہے ہم یہ کہ دیتے ہیں کہ سنتر کے قریب۔بہتر کے قریب تمہاری آسمانی کتب ہیں۔تم ساری آسمانی کتب میں سے سورہ فاتحہ کے مضامین نکال کے دکھا دو۔تو ہم سمجھیں گے کچھ ہے تمہارے پاس لیکن اگر تم ایسا بھی نہ کر سکو تو پھر آئندہ زبان پر یہ چیز نہ لا نا کہ تورات کے ہوتے ہوئے قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے ہم تو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان تمام آسمانی کتب کے ہوتے ہوئے سورۂ فاتحہ کی بھی ضرورت تھی قرآن تو ایک بڑی چیز ہے۔تو سورہ فاتحہ میں ایک تو خلاصہ ہے لیکن خلاصہ بھی آسان نہیں ہوتا کرنا اتنے بڑے قرآن کا۔اتنی وسیع تعلیم کا سات آیتوں میں خلاصہ بھی سوائے خدا کے اور کوئی نہیں کر سکتا ان آیتوں کو چھوڑ کر آپ اپنی زبان میں کبھی کوشش کریں خلاصہ کرنے کی کسی ایک سورۃ کا بھی شاید خلاصہ نہ کر سکیں خدائی کتاب اور وہ کتاب جو کامل اور مکمل ہے اس کا خلاصہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آنا چاہیے تھا اور آیا۔اور بڑا حسین ہے اور اس سورہ فاتحہ کی تفاسیر مثلاً میں نے دعویٰ کیا ہے اور جس وقت میں نے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ آپ کے خلیفہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے رکھا تو اس سے پہلے میں نے سوچا بھی تو میں نے یہ سوچا کہ مجھے یہ کرنا پڑے گا (اگر یہ قبول کر لیں) کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۂ فاتحہ کی جہاں جہاں جو بھی تفسیر کی ہے وہ اکٹھا ہمیں کرنا پڑے گی پھر مجھ سے پہلے جو خلفاء گزر چکے ہیں ان کی سورہ فاتحہ کی تفاسیر کو اکٹھا کرنا پڑے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے جو مجھے علم عطا کرے وہ لکھنا پڑے گا اور اس شکل میں سورہ فاتحہ کی تفسیر ہم ان پادریوں کے ہاتھ میں دیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ان مضامین کو اپنی آسمانی کتابوں میں سے نکال کر دکھاؤ اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو اس کے بعد پھر ہم اور اپنی کتابوں میں سے مضمون نکال کر یعنی شائع کر دیں تو پھر ہم ثابت کریں گے اور خدا کے فضل سے ثابت کرنے کے قابل ہوں گے کہ جو باتیں انہوں نے اپنی الہامی کتب سے نکالی ہیں یا تو وہ ان کی