خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 173

خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۳ خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۶۸ء لب جو تھا وہ انسان کامل تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذریعہ سے انسان کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی عقل کے معیار کو بھی بلند تر مقام پر رکھ سکتا ہے اور روحانی رفعتوں کو بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکتا ہے۔جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو صحیح طور پر نہ پہنچا نہیں ہم غافل ہو جائیں گے اگر ہم یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو ہم سے تعلق رکھتا ہے کبھی ہم سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر اس ٹوہ میں رہیں گے نا کہ جو اس کی (نعوذ باللہ ) غفلت کا زمانہ ہے اس میں ہم ایسی باتیں بھی کر جائیں جسے وہ پسند نہیں کرتا ( العیاذ باللہ ) لیکن اس کا تعلق تو ہر آن اور ہر وقت ہم سے ہے دوسری مخلوق سے بھی ہے لیکن انسان سے بھی ہے اور ربوبیت کا یہ تعلق ہی ایک زندہ تعلق ہے جو انسان سے ہے اس نے انسان کے لئے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ وہ اپنی جسمانی اور روحانی بقا کو حاصل کر سکے اور رفعتوں کو پا سکے یہ تو تھی وہ صفت کہ خلق کے ساتھ ہی اس کے جلوے ہر آن ہمیں نظر آنے لگیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے بہترین اور عظیم جلوؤں کے لئے پیدا کیا ہے یہ دنیا جو ہے وہ مادی دنیا ہے اور خدا تعالیٰ کے جو جلوے یہاں ہمیں نظر آتے ہیں وہ اسباب کے پردہ میں چھپے ہوئے ہیں اس وجہ سے بہت ہیں اندھے آنکھوں کے اور دل کے جو خدائے رحیم کے جلوے دیکھ ہی نہیں سکتے۔سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے حاصل کرنا ہے اپنے زور، طاقت ، مال، اثر ، رسوخ ، اقتدار یا علم سے حاصل کرنا ہے یہ نہیں جانتے کہ جس خدا نے علم دیا ہے عقل دی ہے وہی خدا جب غضب میں آتا ہے تو عقل و علم کو جنون سے بدل دیتا ہے نہیں سمجھتے کہ جس ہستی نے مال دیا ہے وہ ہستی اتنی قادر وتو انا ہے کہ جب اس کا غصہ انسان خرید لے تو وہ دولت کو فقیری میں بدل دیتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ میری صحت بڑی اچھی ہے اور میں اکیلا ہی سو آدمیوں پر بھاری ہوں اور اپنے جسم کی صحت کے نتیجہ میں وہ تکبر اختیار کرتا ہے وہ نہیں جانتا کہ ایک سکینڈ کے ہزارویں حصہ میں خدا کے قہر کا جلوہ اس پر فالج وارد کر سکتا ہے اور ساری اس کی طاقتیں اور سارا اس کا تکبر اور گھمنڈ خاک میں مل جاتا ہے اور کچھ بھی باقی اس کا نہیں چھوڑ تا لیکن چونکہ یہ اسباب کی دنیا ہے انسان بعض دفعہ غفلت برتتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے جلوؤں ، اس کی رحمانیت کے جلوؤں کو دیکھ نہیں سکتا۔اس کی ایک