خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 166

خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۶ خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۶۸ء ایک سوننانوے دوسرے سائنسدان جو ہیں وہ اسی قسم کی تدبیر کرنے کے باوجود نا کام کیسے ہو گئے؟ پس اللہ تعالیٰ بعض پر رحیمیت کا جلوہ ظاہر کر دیتا ہے یہ جلوہ تو وہ دیکھتے ہیں لیکن صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں روحانی بینائی سے محروم ہیں اس لئے ان جلوؤں کے باوجود وہ خدائے رحیم کی معرفت سے محروم رہ جاتے ہیں۔رحیمیت کے جلوے جماعت مومنین بھی ہر روز ہی دیکھتی ہے کیونکہ بعض کام ایسے ہیں کہ ان کے لئے بیس منٹ کی تدبیر کرنی پڑتی ہے اور بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے گھنٹہ کی تدبیر کرنی پڑتی ہے اور بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے دو گھنٹے کی تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ہر کام کے لئے ایک وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہوا ہے اور بہت سی تدبیریں دن کے ایک حصہ میں ہی کمال کو پہنچ جاتی ہیں مثلاً عورت نے گھر میں کھانا پکانا ہوتا ہے کوئی ایک گھنٹہ میں کھانا تیار کر لیتی ہے کوئی دو گھنٹہ میں اگر کوئی عورت یہ سمجھے کہ میں نے تدبیر کر لی اور کھانا پک گیا اب مجھے اپنے رب کی رحمت کی ضرورت نہیں تو ایسی عورت کو سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کبھی اس طرح بھی کرتا ہے کہ جس وقت بڑے شوق اور محنت سے وہ سالن تیار کر چکی ہوتی ہے اور خوش ہوتی ہے کہ میرے بچوں کو، میرے خاوند کو اچھی غذا مل جائے گی تو ایک بچہ دوڑ تا آتا ہے اور اس کی ٹھوکر سے ساری ہنڈیا چولہے کے اندر گر جاتی ہے اللہ تعالیٰ بتانا چاہتا ہے کہ تیری تدبیر کافی نہیں میر افضل جب تک ساتھ نہ ہوانسان کا میاب نہیں ہوسکتا۔کافر اور منکر کہتا ہے یہ حادثہ ہے مومن کہتا ہے اَسْتَغْفِرُ اللہ مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میری تدبیر کے ساتھ شامل نہ ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب تک میری رحیمیت کا جلوہ تمہاری تدبیر کے ساتھ نہیں ہو گا تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ہمیں اپنی زندگیوں میں اپنے ماحول میں بھی یہ نظر آتا ہے کہ کبھی تو تدبیر ہی نہیں سوجھتی کہ کیا کریں کیا نہ کریں کبھی ساری تدبیریں کر لینے کے بعد بھی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا خدا اس وقت اپنے بندے کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ میر افضل اگر تم نے حاصل کرنا ہے تو میری صفت رحمانیت کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہو۔دوسری صفات کا جلوہ میں تمہارے لئے نہیں دکھاؤں گا ایسے بندے کو