خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 167
خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۷ خطبہ جمعہ ۷ رجون ۱۹۶۸ء رحمان کی طرف جھکنا چاہیے اور اس وقت جو دعا ہو گی دراصل تد بیر کا حصہ نہیں ہوگی کیونکہ یہ دعا مادی تدبیر کی کامیابی کے لئے نہیں بلکہ یہ دعا تو ایک عاجز بندے کے عجز کا اظہار ہے بندہ اس خدائے رحمن کے دروازے کے پاس جا کے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے رحمان خدا ! میں نے دعائیں بھی کر لیں میں نے تدبیر بھی کر لی مگر نا کامی ہے کہ مجھے چھوڑتی نہیں اب میں تیرے پاس آیا ہوں جس طرح تو نے پہلے رحمانیت کے جلوے مجھے دکھائے اب بھی دکھا! تو یہ وہ دعا نہیں جو تد بیر کا حصہ بنتی ہے بلکہ محض عاجزی کا، بے بسی کا اظہار ہے کہ تدبیر بے نتیجہ ثابت ہوئی تدبیر کے نتیجہ خیز ہونے کی دعا بھی رد ہو گئی بلا استحقاق دے اے میرے رحمن خدا اور بہت ہیں جو اس طرح خدائے رحمن کی رحمانیت کے جلوے دیکھتے ہیں ہم ہر روز اپنی زندگیوں میں اپنے گھروں میں اپنے ماحول میں اپنی جماعت میں اپنی دنیا میں جس میں ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں رحیمیت اور رحمانیت کے جلوے دیکھتے ہیں اور زندہ خدا کی زندہ تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے جلوؤں کے مشاہدہ کی توفیق اور معرفت عطا کرے وہی لوگ ہیں جو تو حید خالص پر قائم ہیں اور حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار اور جاں نثار ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی حقیقی تو حید پر قائم کرے اور محبت اور پیار حسن اور احسان کے جو جلوے ہمارے سامنے وہ ظاہر کرتا ہے ہم میں سے ہر ایک کو خود ہی توفیق عطا کرے کہ ہم انہیں پہچانیں اور ان سے فائدہ حاصل کریں۔(روز نامه الفضل ربوہ 9 جولائی ۱۹۶۸ء صفحہ ۱ تا ۴ ) 谢谢谢