خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 162
خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۲ خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۶۸ء ایسے ہیں کہ جن کی ساری کوششیں اسی دنیا میں گم ہو گئیں اور ان کی ساری زندگیاں اسی دنیا کے لئے ہو گئیں جنہوں نے اپنے پیدا کرنے والے رب کو بھلا دیا اور اس سے نہ کسی خیر کی امید چاہی اور نہ کوئی خیر انہیں ملی اسی دنیا کی تدبیر کے نتیجہ میں صرف اس دنیا کی کامیابیاں انہیں رحیمیت کے طفیل حاصل ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے اس قسم کے جلوے روز ہمیں نظر آتے ہیں پس بعض خدائے رحیم سے محض دنیا کے فوائد حاصل کرتے ہیں۔(اس کے وعدہ کے مطابق ) بعض وہ بھی ہیں جو اپنے خدائے رحیم سے اس دنیا کے فائدے بھی حاصل کرتے ہیں اور اُخروی زندگی کے فائدے بھی حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ اس یقین کامل پر قائم ہوتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے لینا ہے اپنے رب سے لینا ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے ایک دوسرے رنگ میں بھی ہمیں نظر آتے ہیں وہ اس طرح پر کہ بعض دفعہ ہر تد بیر نا کام ہو جاتی ہے بعض دفعہ کوئی تدبیر سوجھتی ہی نہیں مثلاً ایک مریض ہے ڈاکٹر کہتے ہیں ہم صحیح تشخیص پہ پہنچے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ اس مریض کو کینسر کی بیماری ہے اور جتنی دوا ئیں اس وقت تک انسان کو اس مرض کے علاج کے لئے معلوم ہیں وہ استعمال کرتے ہیں ایلو پیتھک بھی ، طب یونانی ، ہومیو پیتھک بھی اور صدری نسخے بھی لیکن ہر قسم کی دوا دینے کے بعد بھی مرض کو افاقہ نہیں ہوتا۔ایک ایسا مریض ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے دنیا کے چوٹی کے ڈاکٹر معائنہ کرتے ہیں اور نہیں سمجھ سکتے کہ اس کو مرض کیا ہے؟ مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو سکتی ابھی پچھلے دنوں ہمارے ایک احمدی دوست چوہدری عبد الرحمن صاحب جو انگلستان میں ہیں ان کو بخار آنے لگا ( پہلے بھی اسی قسم کی بیماری میں وہ مبتلا ہوئے تھے پھر آرام آ گیا اور اب پھر ان کو اسی بیماری کا حملہ ہوا ) ہسپتال میں رہے بڑا ترقی یافتہ ملک ہے بڑے ماہر ڈاکٹر ہیں ، بڑے تجربہ کار معالج ہیں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہسپتال میں رکھا پتہ نہیں لگتا کہ بیماری کیا ہے اگر بیماری کا پتہ ہی نہ لگے تو علاج کیسے ہو؟ کیا دوا دینی چاہیے اس کا بھی پتہ نہیں لگ سکتا اور اگر دوا کا پتہ نہ لگے تو مادی تدبیر نہیں کی جاسکتی اور رحیمیت کے جلوے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا رحیمیت کا جلوہ تو وہاں نظر آتا ہے جہاں تد بیر اپنے کمال کو پہنچے۔