خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 161
خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۱ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۶۸ء کی صفت رحیمیت ہماری تدبیر میں برکت ڈالتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے لطیف پیرا یہ میں ہمیں بتایا ہے کہ دعا بھی ایک تدبیر ہی ہے اور جب مادی تدبیر ہم انتہا کو پہنچا دیتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مادی تدبیر کے لحاظ سے جو احکام جاری کئے جو قانون وضع کئے تھے وہ تدبیر تو ہم نے کمال کو پہنچا دی لیکن یہ ایک مومن کا دل کہتا ہے کہ اب بھی مجھے میرے ربّ رحیم کی ضرورت ہے اور وہ دعا کرتا ہے کہ اے میرے رحیم خدا میری تدبیر کے بہتر نتائج نکال پس ایک مومن کے لئے کوئی تدبیر مکمل نہیں ہوتی جب تک دعا اس کا جز ولازم نہیں ہوتا۔پس رحیمیت کے ساتھ عاجزانہ پر سوز دعاؤں کا بڑا گہرا تعلق ہے اگر یہ نہ ہو تو انسان مشرک بن جائے اگر وہ یہ سمجھے کہ مادی تدبیر کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کی کوئی ضرورت نہیں تو وہ مشرک بن گیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ تو بتایا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں دنیا میں کہ اگر چہ وہ ہم پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی ہماری معرفت رکھتے ہیں لیکن دنیا کمانے کے لئے جو دنیوی تدا بیر وہ اختیار کرتے ہیں ان میں ہم انہیں کامیاب کر دیتے ہیں اور اس ورلی زندگی کا آرام و آسائش انہیں حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ سعی اور کوشش میں بھی دعا مخفی ہوتی ہے لیکن خدا کا ایک مومن بندہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہو سکتا کہ اس نے تدبیر کی اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے اس کی تدبیر کو صرف اس دنیا میں کامیاب کر دیا اور اُخروی دنیا میں اس کے لئے اس کے نتیجہ میں کوئی ثواب مقدر نہیں کیا کیونکہ ایک مومن جانتا ہے کہ چونکہ اُخروی زندگی یقینی ہے اس لئے ایک تسلسل زندگی کا ہے موت تو ایک پردہ ہے گرا رہتا ہے پھر اُٹھ جاتا ہے پھر انسان دوسری دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جب تک اسے یہ یقین نہ (ہو ) کہ میری زندگی کا تسلسل خدا کی رحمت کے سائے میں رہے گا اسے حقیقی آرام نہیں حاصل ہو سکتا۔پس دعا تدبیر کا ایک لازمی حصہ ہے بلکہ یہ بھی ایک تدبیر ہی ہے ایک تدبیر ہم مادی ذرائع سے کرتے ہیں اور ایک تدبیر ہم دعا کے ذریعہ سے کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اشیاء میں اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہم کوئی تدبیر کرتے ہیں تو اس کا فضل مومن کے شامل حال اس رنگ میں ہوتا ہے کہ دنیا میں بھی وہ کامیاب ہوتا ہے اور اُخروی زندگی میں بھی لیکن جو لوگ