خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۸ خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء وہ شریک ہوتے ہیں اور ہر وقت وہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ خدا کے یہ پاک بندے روحانیت کی سیر میں کسی ایک مقام پر کھڑے نہ رہ جائیں بلکہ آگے ہی آگے وہ بڑھتے چلے جائیں۔تو صَلَواتِ الرَّسُولِ کا ذریعہ وہ اسے سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس اخلاص کے ساتھ میری راہ میں قربانیاں دو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب ضرور حاصل ہوگا میں تمہیں اپنے قرب سے نوازوں گا اور اپنے پیار کے جلوے تم پر ظاہر کروں گا اور اپنی رحمت کے باغوں میں تمہیں لے جاؤں گا اور میری ابدی رضا تمہیں حاصل ہوگی اور اگر میری راہ میں قربانیوں کی وجہ سے دنیا میں کبھی تمہیں کوئی تکلیف بھی پہنچی ہوگی تو وہ تمام تکلیفیں تم بھول جاؤ گے کیونکہ اس کے مقابلہ میں جو تمہیں ملا ہے وہ اس قدر زیادہ ہے، اس قدر عظیم ہے، اس قدر حسین ہے، اس قدر راحت بخش ہے کہ دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا کیونکہ جہاں وہ شکور ہے وہ غَفُور بھی ہے ، رحیم بھی ہے تمہیں کہا جاتا ہے کہ تم ہر سال سال کی آمد میں سے خدا کی راہ میں کچھ قربان کرو اچھا مال کاٹ کے اسے دو تو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں فرمایا کہ میں رحیم ہوں تمہاری روحانی بقا اور تمہاری روحانی ترقی کے لئے ضروری تھا کہ تم سے بار بار قربانیاں لی جاتیں اور بار بار اعمالِ صالحہ کروائے جاتے تا کہ کسی وقت بھی تم اس دنیا میں اپنے معیار سے نیچے نہ گرتے اس لئے اللہ تعالیٰ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں بار بار تم پر رجوع برحمت ہوں گا کیونکہ میں رحیم ہوں۔تو ایسے خدا کے بندے بھی ہیں جو دیہات میں رہنے والے ہیں دیہاتی جماعتوں کو خصوصاً مالی قربانی کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے کیونکہ مجھ پر یہ اثر ہے کہ ان کی تربیت ابھی ایسے رنگ میں نہیں ہوئی کہ وہ مالی قربانیاں اس بشاشت کے ساتھ اور اس حد تک کر سکیں جو ان کا حق ہے اور جس کے نتیجہ میں وہ زیادہ سے زیادہ اس کی رحمتوں کے وارث بن سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جہاں ایسے دیہاتی ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو چھٹی سمجھتے ہیں وہاں خدا کے ایسے بندے بھی دیہات میں رہتے ہیں کہ جو میری راہ میں قربانیاں دیتے ہیں اور میرے فضلوں کے وہ وارث بنتے ہیں اور میری مغفرت کی چادر انہیں ڈھانکتی ہے اور میرا