خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 130

خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۰ خطبہ جمعہ ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ء بچے تھے ایسے بچے جن کو میں نے کہا تھا کہ ابھی زبان سیکھ رہے ہیں چند بار اگر ہم ماں باپ یا ان کے گارڈین یا ان کے استادان کے منہ سے خدا تعالیٰ کی حمد، اس کی تسبیح اور درود کے کلمات کہلوا دیں تو ان کی زندگیوں میں برکت پیدا ہو گی ان کی روح کی وہ کھڑ کی جو رب کی طرف کھلتی ہے وہ کھل جائے گی۔بہت سارے دوستوں کے خطوط ملے ہیں بعض دوست نہیں لکھتے لیکن جو لکھنے والے ہیں وہ ان کے نمائندے ہوتے ہیں۔اپنے طبقات کے اپنے گروہ کے۔بہت سارے دوستوں نے خطوط لکھے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو یہ درود اس رنگ میں کہلوانا شروع کیا ہے پھر وہ تین پر یا چھپیں پر یا سو پر یا دوسو پر قائم نہیں رہتے عادت پڑ جاتی ہے وہ آگے چلتے ہیں۔تو جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے اس تحریک پر تعہد کے ساتھ عمل کیا ہے اور جہاں وہ لوگ جو دوسو سے کہیں زیادہ درود پڑھنے والے اور تسبیح وتحمید کرنے والے تھے انہوں نے بھی آگے ہی قدم بڑھایا ہے اور جو لوگ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق میں نے کہا تھا که اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) ان پر صادق آتا ہے ان کے دلوں میں بھی بشاشت پیدا ہوئی ہے اعتراض پیدا نہیں ہوا۔لیکن کچھ کمزور بھی ہوتے ہیں اور ان کے دل شیطانی وساوس کی آماجگاہ بن جاتے ہیں اب تحریک یہ تھی کہ کم سے کم اتنی بار درود پڑھا جائے اور اعتراض یہ ہو گیا کہ تعداد معین کر دینا یہ درست نہیں اوّل تو یہ کہ معین تعداد کی کس نے ؟ کم سے کم تو تعداد کی تعیین نہیں ہوتی وہ تو کم سے کم معیار بتا رہا ہوتا ہے جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ تعین نہیں ہونی چاہیے اس کا فرض ہے کہ وہ دوسو دفعہ تو گن لے اور اس کے بعد ان گنت درود اور تسبیح اور تحمید کرتا رہے جیسا کہ مخلصین نے اس سے یہی سمجھا اور اس پر عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وہ وارث بنے۔دوسرے یہ کہ یہ کس نے کہا کہ جائز ہے۔اب کمزور ایمان والے شارع تو نہیں سمجھے جا سکتے نہ ان کے فاسد خیالات کو شریعت کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے۔حدیث میں جو پختہ ہے جس میں کمزوری نہیں ، یہ آتا ہے کہ آپ نے