خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 129

خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۹ خطبہ جمعہ ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ء پر درود بھیجا کریں گے بعض ایسے بھی تھے جو درود پڑھتے اور تسبیح اور تحمید تو کرتے تھے لیکن دوسو بار نہیں کرتے تھے انہوں نے لکھا کہ ہم خدا تعالیٰ کے بڑے زیر احسان ہیں کہ اس نے آپ کے ذریعہ ہماری توجہ اس طرف پھیری کہ کم از کم دو سو بار ہم اس شکل میں تسبیح اور تحمید اور درود پڑھا کریں اور ان میں سے بعض نے یہ بھی لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس تسبیح اور تحمید اور درود میں ہمارے لئے بڑی جلدی برکات کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور جو کام رُکے ہوئے تھے ان کی روکاوٹیں دور ہو گئیں۔ایک دوست نے تو لکھا کہ ابھی سولہ دن نہیں ہوئے تھے۔تو ایک دو میرے کام جو سالہا سال سے ڑکے ہوئے تھے وہ روکا ئیں دور ہو گئیں اور میرا کام ہو گیا صرف پاکستان سے ہی نہیں بلکہ غیر ملکوں سے بھی خطوط آئے۔اللہ تعالیٰ کی محبت ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا اظہار بڑوں نے بھی اور بچوں نے بھی کیا اور وہ اس وجہ سے بھی اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے خلیفہ کو یہ توفیق عطا کی کہ وہ جماعت کو اس طرف متوجہ کر سکے کہ کثرت کے ساتھ درود پڑھا جائے اور کم از کم اسی تعداد میں پڑھا جائے۔ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے بھی ہیں جن پر یہ صادق آتا ہے۔اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) جن کی زندگی کا ہر لمحہ ہی خدا تعالیٰ کے ذکر میں خرچ ہونے والا ہے جب وہ سوتے ہیں تو بیداری کے لمحات کو کچھ اس طرح اپنے رب کی یاد میں گزارا ہوتا ہے کہ ان کے خوابیدہ لمحات بھی خدا تعالیٰ کے ذکر میں خرچ ہونے والے لمحات شمار ہوتے ہیں ایسے لوگوں نے بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ایک اور موقع ہمیں نصیحت حاصل کرنے کا مل گیا ہے اور ہم بڑے تعہد سے اپنی زندگیوں کو خدا کی راہ میں گزاریں گے اور کوئی غفلت اور کوئی کوتاہی اور کوئی شیطانی وسوسہ بیچ میں رخنہ نہیں ڈال سکے گا۔تو مختلف طبائع ہیں ، تربیت کے مختلف مقامات ہیں، جن پر جماعت کے مختلف طبقات ٹھہرے ہوتے ہیں یا پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کو بلند کرنا، آگے لے جانا یہ خلیفہ وقت کا کام ہوتا ہے اور کبھی مالی تحریکیں، کبھی قربانیوں کے دوسرے طریق۔کبھی اصل چیز جو ذکر ہے۔دراصل خدا تعالیٰ کی راہ میں جو کام بھی کیا جاتا ہے وہ ذکر کی بنیادوں پر ہی کھڑا ہوتا ہے اور قائم رہتا ہے