خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 127
خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۷ خطبہ جمعہ ۲۶ /اپریل ۱۹۶۸ء آج بطور جنّة کے بطور ڈھال کے میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو شیطانی وساوس سے بچاؤں خطبه جمعه فرموده ۱/۲۶ پریل ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔پچھلے دنوں پہلے پیچش کی تکلیف رہی تھی مجھے اور پھر اس کے بعد ہیضے اور ٹائیفائڈ کے ٹیکا لگانے کے نتیجہ میں، کا رد عمل جو ہوا، اس کی وجہ سے سر کا بھاری ہونا اور جسم کا دکھنا وغیرہ شامل ہوتے ہیں اس کے نتیجہ میں کمزوری پیدا ہو گئی۔آج گرمی بھی بہت ہے اس لئے میں مختصراً اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر فلاح دارین چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اپنی زندگیوں کے دن گزارو۔ہر وقت اسے یاد کرو اس کی تسبیح اور تحمید کرو اس کی طرف جھکو صرف اسی سے دل لگاؤ صرف اسی سے محبت کا تعلق قائم کرو اور پختہ کرو غرض کہ ہر رنگ میں ، ہر لحاظ سے، ہر نقطہ نگاہ سے اور ہر آن اسی کے ہو جاؤ اور اسی میں اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرو۔دنیا میں مختلف طبیعتوں کے انسان ہوتے ہیں۔مختلف تربیت حاصل کرنے والے انسان ہوتے ہیں ان کی تربیت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ درجہ بدرجہ ذکر کے مقامات ان سے طے کروائے جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ بعض صحابہ نے بعض نیکیوں کے متعلق دریافت کیا کہ ہم بوجہ غربت کے ان میں پیچھے رہ جاتے ہیں نیکیوں کی کوئی اور راہیں