خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 113 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 113

خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۳ خطبہ جمعہ ۱۲ را پریل ۱۹۶۸ء میں اپنے نفس کو اپنے خدا کی راہ میں قربان کروں یہ بھی اس کی راہ میں قربان ہو جا ئیں۔اگر یہ تین آواز میں تم دنیا میں بلند کرو گے، زبان، عمل صالح اور روح کی پکار یعنی تمہاری دعوت بھی اللہ کی طرف ہے، تمہارا عمل بھی محض اس کے لئے ہے اور تمہاری روح بھی اس کے آستانہ پر پڑی ہوئی ہے تو پھر تم لوگوں کو رب کی طرف اپنے پیدا کرنے والے کی طرف ، واپس لوٹا لانے میں کامیاب ہو گے ورنہ نہیں۔وَلَا تَسْتَوَى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ اور حقیقت یہی ہے کہ جو نعمت اور خوشحالی حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہاں بھی اور وہاں بھی ملتی ہے وہ اور سیئہ برابر نہیں ہوتیں جو خدا کی رحمتیں ہیں جو خدا کی نعمتیں ہیں ان کے مقابلہ پر شیطان کیا پیش کر سکتا ہے کچھ بھی نہیں۔اس لئے ( ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ) ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ احسن جس کا اس آیت میں اور دوسری آیات میں ذکر ہے اس کے ذریعہ تم بُرائی کا جواب دو۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم شر سے گلی طور پر پاک بھی ہو جاؤ تب بھی شیطان ایسا انتظام کرے گا کہ وہ اپنے ماننے والوں میں سے بعض کو فساد پر اُکسائے گا اور امن کی فضا کو مکدر کرے گا۔پس ہر وہ مسلمان احمدی جو دنیا کے ملک ملک میں اس وقت پھیلا ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر فساد اور فتنہ کے حالات طاغوتی طاقتیں پیدا کرنا چاہیں تو ہمارا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم ان کے پھندے میں نہ آنا بلکہ اپنے نفسوں پر قابو رکھنا اور جو آنحسن ہے اس کے ذریعہ اپنا دفاع کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی نہایت ہی بد زبان شخص مخالف اسلام قادیان میں آئے اور ایک سال ہمیں نہایت گندی اور مخش گالیاں دیتا ر ہے تب بھی دنیا یہ دیکھے گی کہ ہمیں اپنے نفس پر قابو ہے اور ہم گالی کے مقابلہ پر گالی نہیں دیتے اور سیئہ کے مقابلہ پر سینہ کو پیش نہیں کرتے بلکہ سیئہ کے مقابلہ میں ہم حسنہ کو پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے بغیر تم اپنے مخالفوں کے دل جیت نہیں سکتے لیکن اگر تم ہماری تعلیم کے مطابق احسن چیز کو دنیا کے سامنے رکھو گے تو وہ جو آج تمہارے مخالف اور بد گو ہیں تمہارے دوست اور بڑے جوش کے ساتھ تمہاری دوستی کا اظہار کرنے والے بن جائیں گے مگر اس کے لئے ہمیں انتہائی صبر کی ضرورت ہے، انتہائی طور پر اپنے نفس کو عقل اور شرع کی پابندیوں میں جکڑنے کی ضرورت ہے