خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 114

خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۴ خطبہ جمعہ ۱۲ را پریل ۱۹۶۸ء یہی صبر کے معنی ہیں کہ جو پابندیاں شرع لگاتی ہے وہ آدمی بشاشت سے اور خوشی سے خدا کی رضا کے لئے قبول کرے اور ایسا وہی کرتے ہیں جو ذُو حظ عظیم ہوتے ہیں یعنی جن پر اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے نہ کہ ان کے کسی عمل کی وجہ سے بہت رحمتیں نازل کرتا ہے اور جن کے متعلق صحیح معنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ روحانی طور پر ایسے ہی ہیں جیسا کہ دنیوی لحاظ سے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق دنیا کی نگاہ یہ بجھتی ہے کہ وہ حظ عظیم رکھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پھر یہ فرما یا ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَة کہ جو احسن ہے اس سے سیئہ کو دور کرو اور اس سیئہ کے اثر سے خود کو بچاؤ اور یہ یادرکھو کہ تمہیں تو طاقت حاصل نہیں کہ تم روحانی میدانوں کے فتح مند سپاہی بن سکو۔یہ ہمارے فضل سے ہوتا ہے اور نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ جو اسلام اور صداقت اور ہدایت کے مقابلہ میں مخالف کر رہا ہے یا کہہ رہا ہے اس کو ہم بہتر جانتے ہیں اور ہم ہی اس کا علاج کر سکتے ہیں۔ہمارے فضلوں کے بغیر تم اس فتح کو نہیں پاسکتے جو فتح تمہارے لئے مقدر ہے۔پس اپنے نفسوں کے جوشوں کو دبائے رکھو اور نفسوں کی بجائے مجھ پر بھروسہ کرو کہ میں سب طاقتوں والا ہوں اور دعائیں کرتے رہو۔رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزْتِ الشَّيطِينِ - وَ اَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ (المؤمنون: ۹۹٬۹۸) کہ جو طاقتیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کرے اور انہیں شکست دے اور اسلام کا نام بلند ہو اور ہر بندہ اپنے ربّ کو پہچانے اور حقیقی عبد بن کر اس کے حضور جھک جائے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خدا کرے کہ ہمیں دعاؤں کی توفیق ملے اور خدا کرے کہ ہمارا خدا ہماری دعاؤں کو قبول کرے اور اپنے وعدوں کو ہمارے حق میں پورا کرے۔(آمین) (روز نامه الفضل ربوه ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ء صفحه ۱ تا ۴)