خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1036
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۶ خطبہ جمعہ ۲۶/ دسمبر ۱۹۶۹ء کے مال اور عزت و ناموس کو مقدس قرار دیا ہے۔شعائر اللہ بنادیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال اور کسی کی عزت پر حملہ کرنا ایسا ہی نا جائز ہے جیسا کہ اس مہینے اور اس علاقے اور اس دن کی ہتک کرنا پھر آپ نے فرمایا یہ حکم آپ کے لئے نہیں ، کل کے لئے نہیں بلکہ اس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو پھر فرمایا یہ باتیں جو میں آج تم سے کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤ کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے آج نہیں سن رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اور آپ سے پہلے جو چھوٹے چھوٹے اولیاء امت گذرے ہیں انہوں نے بھی اپنے اپنے وقت میں بہت ساری چیزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکام کی روشنی میں یہ اعلان کیا کہ یہ شعائر اللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی حرمت اور عزت قائم کی ہے اس اصول کے مطابق مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو میرے فضل کی تلاش میں ہے وہ میری عزت اور میری حرمت کے دائرہ کے اندر ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ سالانہ کو شعائر اللہ میں شامل کیا ہے کیونکہ ایک تو یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہم صرف اللہ اور رسول کی باتیں سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔یہاں اس اجتماع میں ہماری اپنی کوئی ذاتی غرض اور مقصد نہیں ہے پھر لوگ ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے حصول کے لئے مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے یہاں آ رہے ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی تلاش میں سفر کر رہے ہوتے ہیں اور اسی کی طرف پہلی آیت جو میں نے پڑھی تھی اشارہ کر رہی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قابل عظمت قرار دیا ہے پھر انسانوں میں سے بعض انسان ایسے ہیں کہ جن کی عزت اور عظمت کو حق طور پر خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔سب سے۔زیادہ معزز اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عرب توں کی تقسیم کا سر چشمہ اور منبع تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے آپ کی اُمت میں آپ ہی کے منشا کے مطابق اور بھی ایسے وجود پیدا ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت اور عظمت عطا کی تھی۔کون یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ کی