خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1015
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۱۵ خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوتے رہے ہیں اور آپ کے بعد جتنے بھی مرسل اور محدثین ہوئے ہیں انہوں نے آپ ہی سے نور لے کر اپنے وقت کی اندھیری رات کو نورانی بنانے کی اپنے رب کی رحمت سے توفیق پائی تھی۔بہر حال اصل لیلتہ القدر تو یہ لیلۃ القدر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا تعلق اس قسم کا ہے کہ آسمان کی طرف سے محض ہدایت کا نازل ہو جانا انسان کے لئے کافی نہیں، محض سورج کی شعاعوں کا زمین کے او پر پہنچ جانا اور اس زمین کو روشن کر دینا انسان کے لئے کافی نہیں اُسے ایک ایسی آنکھ ملنی چاہیے کہ جس کے ذریعہ وہ اس سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکے اگر سورج کی روشنی دو پہر کے وقت جب سورج نصف النہار پر ہوتا ہے اور ہر چیز پوری طرح روشن ہوتی ہے اس وقت کسی خطہ ارض پر پڑ رہی ہو لیکن اس خطہ کے مکین اپنی آنکھوں کے نور سے محروم ہوں تو سورج بے شک چمکتا رہے ان کے اندھیرے روشنی میں نہیں بدلیں گے اس لئے اگر چہ رات بڑی اندھیری تھی ایسی اندھیری رات کہ اس سے قبل اس قسم کی اندھیری رات کبھی نہیں آئی تھی اور بعد کی اندھیری رات کا لفظ اس لئے ہم یہاں نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔پس یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ کوئی رات دنیا میں اتنی اندھیری نہیں تھی جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے وقت اندھیری تھی اور اس میں بھی شک نہیں کہ ان اندھیروں کو دور کرنے کے لئے شدت ظلمات کی مناسبت سے ایک ایسا نور آسمان سے نازل ہوا جس کی نورانیت کا پہلے زمانے مقابلہ ہی نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود اس نور سے منور وہی ہوگا جسے روحانی طور پر آنکھ ملے گی، جسے روحانی طور پر آنکھ نہیں ملے گی جو روحانی طور پر اندھا ہوگا وہ اس عظیم محمدی نور سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔اس لئے اس لیلتہ القدر کے ساتھ بقیہ دولیلۃ القدر کا پایا جانا ضروری تھا۔پس اصل میں تو یہ لیلۃ القدر ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور جو فساد میں ، تاریکی میں، اللہ تعالیٰ سے دُوری میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اور ان تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے وہ نور بھی ایسا آیا جو کامل اور مکمل اور جس میں ہر قسم کے فسادات کو