خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 994 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 994

خطبات ناصر جلد دوم ۹۹۴ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۶۹ء اس نے انسان کو پیدا کر دیا ہو اور بعد میں اس کی غذاؤں وغیرہ کا خیال رکھا ہو اور یہ عمل تو شاید ہزاروں لاکھوں سال سے پہلے شروع ہو گیا تھا۔پس وہ مخلوق خدا جو اس لئے پیدا کی جانی تھی کہ وہ اپنے رب سے ایک حقیقی اور زندہ اور اپنے اختیار سے ( یعنی اختیار کے رنگ میں باقی تو ہر مخلوق کا تعلق اپنے رب سے ہی ہے لیکن اختیار رکھتے ہوئے اثر رکھتے ہوئے علی وجہ البصیرت قربانیاں دیتے ہوئے ) وہ اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے والی مخلوق ہوگی۔پس جس وقت وہ اس دنیا میں پیدا ہوتو وہ بھوکی نہ مرے۔چنانچہ غذاؤں کے علاوہ پانی کا انتظام پانی کی صفائی کا انتظام پانی کو جراثیم سے پاک رکھنے کا انتظام اور پھر اس کو مختلف جگہوں پر پہنچانے کا انتظام غرض پانی کی فراہمی کے سلسلہ میں ہزار قسم کے انتظام کئے اور نہ صرف کھانے پینے کی چیزوں میں بلکہ دوسری تمام چیزوں میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے جلوے ہی جلوے نظر آتے ہیں اور پھر یہ سارے جلوے انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے ماتحت بغیر استحقاق حق کے نظر آرہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ جو صفتِ حسنہ بیان فرمائی ہے جس وقت اس حسین اور خوبصورت صفت کے جلوے انسان پر ظاہر ہونے لگتے ہیں تو وہ احسان بن جاتے ہیں۔وہی حسن جو ہے وہ احسان کا رُوپ اختیار کر لیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم عاجزی، انتہائی عاجزی اور کامل اتباع کو اختیار کر کے حقیقی معنوں میں میر الحسن اپنی زندگیوں میں پیدا کر لو گے تو پھر میری طرف سے تمہارے اندر یہ طاقت بھی ودیعت کر دی جائے گی کہ جس طرح تم میرے محسن کو میرے فضل اور میرے رحم سے اپنی زندگی میں سمیٹے ہوئے ہو گے اسی طرح میرے احسان کے جلوے بھی تمہارے اندر سے پھوٹ پھوٹ کر نکلنے لگیں گے۔پھر تم وَافْعَلُوا الْخَيْرَ اس قابل ہو جاؤ گے کہ تم خیر اور بھلائی کی باتیں کرو یعنی پھر تم اس بات کے قابل ہو جاؤ گے کہ تم اپنے نفسوں پر اور اپنے بھائیوں پر یا خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق پر احسان کرو۔اپنے نفس کے حقوق بھی ادا کرنے والے اور اپنے بھائیوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہو جاؤ اور اسی طرح بنی نوع انسان کے حقوق کو بھی ادا کرنے لگ جاؤ اور پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری مخلوق کے جو حقوق قائم کئے ہیں ان کی ادائیگی میں بھی