خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 986 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 986

خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۶ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۶۹ء اسی طرح انسان کی پیدائش کی غرض یہ بھی نہیں کہ انسان نجات حاصل کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ انسانی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ انسان کو عبود بیت تامہ کا شرف حاصل ہو جائے کیونکہ جب ایک انسان اپنے رب کا حقیقی رنگ میں اور کامل طور پر بندہ بن جاتا ہے تو نجات تو اُسے خود بخو دمل جاتی ہے۔نجات تو اس عبودیت تامہ کا ایک طبعی نتیجہ سمجھنا چاہیے لیکن صرف نجات مقصدِ حیات انسانی نہیں اور نہ پاکیزگی اختیار کرنا اور گناہوں سے بچنا مقصد حیات ہے۔مقصدِ حیات انسانی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عبود بیتِ تامہ کو اختیار کرے۔اس کا حقیقی عبد بن جائے پھر وہ کسی ایسے گناہ میں مبتلا نہیں ہو گا جو اُس کے رب کو نا پسند ہوا اور وہ ایسا کام نہیں کرے گا جو اُس کے رب سے اُسے دُور لے جانے والا ہو۔ہر وہ چیز جس کی وہ خواہش کرے گا وہ اُسے مل جائے گی اور وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کی عبودیت تامہ کے نتیجہ میں ایک ابدی سرور اور ایک دائمی لذت کو حاصل کرے گا۔نجات تو اس کو مل جائے گی لیکن وہ نجات کے لئے پیدا نہیں کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذُّرِيت : ۵۷) فرما یا انسانی زندگی کا مقصد عبودیت تامہ کو اختیار کرنا یعنی عبد کامل بننا ہے باقی چیزیں تو بطور لوازم اور نتائج کے ہیں۔یہ انسان کو مل جاتے ہیں لیکن انسانی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ اور حقیقی تعلق پیدا ہو جائے۔یہ عبادت ہی ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں بھی جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے خالص عبادت ہی انسانی زندگی کا اصل مقصد ٹھہرایا گیا ہے لیکن بعض لوگ عبادت کے مفہوم کو یا اس فقرے کے مفہوم کو کہ انسان عبودیت تامہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اسی راہ کو اسے اختیار کرنا چاہیے سمجھتے نہیں۔بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑی لمبی لمبی اور دکھاوے کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پرستش اور اس کی عبادت کا حق ادا کر رہے ہیں یا بڑی کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی راہ میں بڑا مجاہدہ