خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 985
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۵ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۶۹ء فانی فی اللہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن جاتا ہے اور کامیابی اور فلاح سے ہمکنار ہوتا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۱ رنومبر ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی:۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - (الحج: ۷۸) اور اس کے بعد فرمایا:۔انسانی پیدائش کی غرض صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے عبودیت کا ایک حقیقی تعلق پیدا کیا جائے۔اس بنیادی غرض کے حصول کے علاوہ باقی جو بھی مقاصد حاصل ہیں وہ انسانی پیدائش کی غرض اور مقصد نہیں لیکن ان کا ایک طبعی نتیجہ ضرور نکلتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ نہیں ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہواس کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ اس کا اپنے رب سے حقیقی اور زندہ تعلق قائم ہو جائے۔جب اُس کا اپنے رب سے حقیقی اور زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے تو گناہوں سے وہ خود بخود پاک ہو جاتا ہے کیونکہ پھر اس کا دل اور اس کی روح کسی ایسے فعل کے کرنے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی جو اس کے پیدا کرنے والے محبوب خدا کو نا پسند ہو۔