خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 982
خطبات ناصر جلد دوم ۹۸۲ خطبہ جمعہ ۱۴ نومبر ۱۹۶۹ء پاک وجود کی محبت پیدا ہوتی ہے اور پھر ہمارے دل اس چشمیر فیض کے مقابلہ میں جس نے ہر چیز کو خیر پہنچانے کے لئے اپنے احاطۂ قدرت میں گھیرا ہوا ہے ایک چشمہ اور پھوٹتا ہے اور وہ ہے اپنے رب کے لئے حمد کا چشمہ۔اللہ تعالیٰ ہر قسم کی خوبیوں کا سرچشمہ ہے وہ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔جب انسان اس کا عرفان حاصل کرتا ہے تو اس کے دل سے حمد کے چشمے پھوٹ پھوٹ کر آستانہ الوہیت پر بہنے لگ جاتے ہیں اور محبت کا عظیم سمندر انسان کے سینہ میں جوش مارنے لگتا ہے اور پھر حقیقت وہ عبودیت کے مقام کو حاصل کرتا ہے۔جب وہ اللہ تعالیٰ کی اتنی عظمت دیکھتا ہے تو اس کو یہ یقین اور معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ میں لاشے محض ہوں جب تک اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت کے فیض سے مجھے مستفیض نہ کرے۔جسمانی لحاظ سے، ذہنی لحاظ سے ، اخلاقی لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے میرا قائم رہنا ممکن ہی نہیں۔اس لئے انسان استعانت طلب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے رب تو نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میرا دل تیری حمد سے معمور ہے لیکن مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا کہ میرا تعلق تجھ سے ایک لمحہ کے لئے بھی قطع ہو جائے اور ہمارے درمیان ایک بعد پیدا ہو جائے اگر تمہاری ربوبیت کا فیض میرے جسم کو نہ پہنچا اور میری جسمانی قوتوں کو تمہاری ربوبیت کا فیض نہ پہنچا تو مجھ پر ایک موت وارد ہو جائے گی۔اگر تمہاری ربوبیت کا فیض میرے ذہن اور حافظہ کو نہ پہنچا تو میں دیوانہ ہو جاؤں گا۔میں نسیان کی بیماری میں مبتلا ہو جاؤں گا۔اگر تمہاری ربوبیت کا فیض میری اخلاقی قوتوں کا سہارا نہ بنا تو میں نہایت بد اخلاق انسان بن جاؤں گا۔جس پر شیطان تو خوش ہوسکتا ہے لیکن اے میرے رب تیری رضا کی نگاہ پھر مجھ پر نہ پڑے گی اور اگر تیری ربوبیت کا فیض میری روحانیت کی بنیاد نہ بنے اور روحانی رفعتوں کے لئے تیرا مستعد اور حرکت میں آنے والا مضبوط ہاتھ سہارا نہ دے تو میں روحانی رفعتوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔اس لئے جو کچھ میرا تھا وہ میں نے تجھے دے دیا۔اب میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اور دے اور میری یہ دعا بھی ہے کہ تو ہر وقت ربوبیت کے فیض سے مجھے فائدہ پہنچا تار ہے تا کہ کسی وقت بھی شیطان مجھ پر کامیاب حملہ نہ کر سکے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کو صبر کا مہینہ کہا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ