خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 968
خطبات ناصر جلد دوم ۹۶۸ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۶۹ء ہر وقت تیار رہتے تھے لیکن رمضان کے مہینے میں تیز ہوائیں اپنی تیزی میں آپ کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔اس قدر بجو د اور سخا پائی جاتی تھی پھر صرف پیسے کی نہیں بلکہ دوسروں کو خیر اور بھلائی پہنچانے کے لئے ایک سخاوت ہوتی ہے۔سخی دل انسان صرف اپنے مال یا اپنی دولت ہی سے دوسرے کو فائدہ نہیں پہنچا تا بلکہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے بھی دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔وہ اپنے وقت سے بھی دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔وہ اپنی دعاؤں سے بھی فائدہ پہنچا رہا ہوتا ہے۔انسان اپنی اس فطرتی سخاوت کا مختلف طرق سے اظہار کر رہا ہوتا ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ہی سخی تھے لیکن رمضان کے مہینے میں آپ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ تمہیں بھو کا اس لئے نہیں رکھا گیا کہ تم بھوک کی تکلیف اُٹھاؤ بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی بھلائی کے کام کرو، نیکی کے کام کرو اور دوسروں کو سکھ پہنچانے کی سعی کرو۔اپنے پیسے سے بھی ، اپنے اثر ورسوخ سے بھی اور اپنی دعاؤں سے بھی۔پس رمضان کے مہینے میں دن کے وقت شہوت نفس سے بچا جاتا ہے اور دوسرے کھانے پینے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔شہوت نفس سے بچنا اصولی طور پر ایک علامت ہے ایک سبق ہے کہ ہر قسم کی آفات نفس سے بچنا ضروری ہے۔آپ نے فرمایا۔"مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ۔یعنی جو شخص صداقت کو چھوڑ کر جھوٹ اور زور اور باطل کی باتیں کرتا اور باطل اصول ہی پر عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے اور شہوت نفس کو چھوڑ دے کیونکہ خدا تعالیٰ کو وہ مقبول نہیں ہوگا۔صرف وہ ترک مقبول ہو گا جس کے نتیجہ میں انسان اس حکمت اور اصول کو سمجھنے والا ہو جس حکمت اور اصول کا یہاں سبق دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ نہ تو زبان نا پا کی اور گندگی کی راہوں کو اختیار کرے اور نہ جوارح باطل کے میدانوں میں کوشاں نظر آئیں بلکہ زبان پر حق و صداقت جاری ہو اور حق و صداقت کے چشمے انسان کے جوارح سے پھوٹنے والے ہوں تب خدا تعالیٰ اس وجہ سے کہ انسان نے روزے کی حکمت کو سمجھا اور اس حکمت کے سمجھنے کے بعد اس نے وہ اعمال بجالائے جو خدا تعالیٰ کو پیارے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل