خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 967 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 967

خطبات ناصر جلد دوم ۹۶۷ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۶۹ء ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اعمالِ صالحہ کی توفیق پائی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ان اعمالِ صالحہ کو قبول کیا۔پس رمضان کے مہینے میں روزہ ہم پر اس لئے فرض نہیں کیا گیا کہ ہم تکلیف اُٹھا ئیں۔ان الدِّينَ يُسر اللہ کے دین یعنی دین اسلام میں کسی پر کوئی ایسی تنگی نہیں ڈالی گئی جو اس کے جسمانی یا دیگر قومی کی نشوونما میں روک بنے بلکہ سارا دین اور دین کے سب احکام کی غرض ہی یہی ہے کہ انسان سہولت سے اور آرام سے ارتقائی منازل طے کرتا ہوا اللہ تعالیٰ کے قرب کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا چلا جائے اور اس سے ہمیں یہ بھی پتہ لگا جیسا کہ دوسری جگہ بھی اس کی وضاحت ہے کہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنا ہم پر فرض نہیں کیا گیا بلکہ صوم ہم پر فرض کیا گیا ہے اور ان دو میں بڑا فرق کیا ہے شریعتِ اسلامیہ نے۔بھوکا تو ایک غریب بھی رہتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صائم نہیں ہوتا۔بھوکا تو ایک بیمار بھی رہتا ہے۔ڈاکٹر ا سے کہتا ہے کہ تیری بیماری ایسی ہے کہ ۲۴ گھنٹے یا بعض دفعہ ۴۸ گھنٹے تیرے معدے میں غذا نہیں جانی چاہیے لیکن خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایسا شخص صائم یعنی روزے دار نہیں ہوتا۔بھوکا تو وہ بھی رہتا ہے جو جنگل میں راہ گم کر دیتا ہے اور کئی کئی دن تک اسے کھانے کو نہیں ملتا لیکن وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں صائم نہیں ہوتا۔پس محض بھوکا رہنا انسان کو روزہ دار نہیں بناتا بلکہ وہ بھوکا رہنا اللہ تعالیٰ کو پیارا ہے جس میں انسان دو پہلو اختیار کرتا ہے۔ایک شہوت نفس سے بچنے کا پہلو جو کہ ایک عام Symbol ( سمبل ) اور علامت ہے اور جس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ہر قسم کی آفات نفس سے بچنے کی کوشش کرو اور دوسرے یہ کہ وہ لوگ جو اس لئے اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے بھو کے رکھے ہیں کہ وہ بھوکے رہ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں ان کے پیٹ بھرنے کے لئے سعی اور کوشش کی جائے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوسرے اصول کے متعلق بھی ہمارے لئے اپنی زندگی میں ایک بہترین اُسوہ اور کامل نمونہ قائم کیا چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے۔كَانَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ - ۶۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ویسے بھی بڑے سخی تھے اور دوسروں کو سکھ پہنچانے کے لئے