خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 958 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 958

خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۸ خطبہ جمعہ ۳۱/اکتوبر ۱۹۶۹ء اس لئے بھی کہ جیسا کہ میں بار بار جماعت کو توجہ دلاتا رہا ہوں اور توجہ دلا رہا ہوں۔احمدیت کی پیدائشی نسل جواب جوان ہو رہی ہے یا بڑی عمر کو پہنچ رہی ہے (سات سال کی عمر کے بعد بچے مجلس اطفال الاحمدیہ کے ممبر بنتے ہیں اور بچیاں ناصرات الاحمدیہ کی ممبر بنتی ہیں اور پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد بچیاں لجنہ اماءاللہ میں اور بچے مجلس خدام الاحمدیہ میں شامل ہوتے ہیں ) یہ انفکو ( Inflow ) یعنی جوانوں یا جوان ہونے والوں کا بہاؤ تسلسل کے ساتھ ہمارے بڑے دریا میں داخل ہوتا ہے۔اس میں بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز زیادتی ہورہی ہے اگر آج سے پچیس سال پہلے جب ہم قادیان میں تھے ہر سال ایک ہزار نئے خدام عمر پندرہ سال ہونے کی وجہ سے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں شامل ہوتے تھے تو آج میرے خیال میں ان کی تعداد کئی ہزار ہے۔صحیح اعداد و شمار تو مجھے معلوم نہیں لیکن کئی گنا زیادہ خدام کی عمر کو پہنچ کر مجلس خدام الاحمدیہ میں داخل ہونے والے آج احمدی نوجوان ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پہلے کی نسبت زیادہ کوشش کے ساتھ اور زیادہ وسیع انتظام کے ماتحت اس نئی نسل کو سنبھالنا اور ان کی تربیت کرنا ہے۔جب تک ہم ہر احمدی کو خواہ وہ باہر سے لٹریچر پڑھنے کے بعد دلائل کا قائل ہونے کے بعد یا خواب کے ذریعہ یا بعض نشانات دیکھ کر احمدیت میں داخل ہونے والا ہے۔یا وہ عمر کے لحاظ سے احمدی گھرانہ میں پیدا ہونے کے بعد اطفال الاحمدیہ میں شامل ہوا پھر خدام الاحمدیہ میں آیا۔یا ناصرات میں ایک بچی شامل ہوئی پھر وہ لجنہ اماء اللہ میں آئی۔بہر حال ہر نئے داخل ہونے والے احمدی کی صحیح تربیت ضروری ہے اور اسے علی وجہ البصیرت احمدیت پر قائم ہونا چاہیے اور اس کا دل اور اس کا سینہ اور اس کا ذہن اور اس کی روح اس یقین کے ساتھ بھرے ہوئے ہونے چاہئیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اب احمدیت کے ہاتھوں مقدر ہے اور اس عظیم جد و جہد کے لئے انتہائی قربانیوں کی ضرورت ہے اور ان انتہائی قربانیاں پیش کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کے عظیم وعدے ہیں اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو نباہیں تو اللہ تعالیٰ ایک نہایت ہی پیار کرنے والے باپ کی طرح ہمیں اپنی گود میں بٹھا لے گا اور خود ہمارا حافظ و ناصر ہوگا اور اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی ہمیں وہ نعمتیں عطا کرے گا کہ جو دنیا داروں کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں خود ہماری عقل ان