خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 959 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 959

خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۹ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۶۹ء نعمتوں کے حصول سے قبل ان کا صحیح تصویر حاصل نہیں کر سکتی۔ہمیں یہ یقین ہوگا کہ ہم ایک صداقت اور سچائی پر قائم ہیں اور یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند کی حیثیت میں اور ایک عظیم انقلاب پیدا کرنے کے لئے مبعوث کیا اور ہمیں آپ کے جوارح بنایا جیسا کہ آپ نے خود تحریر فرمایا ہے اور جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اے میرے درخت وجود کی شاخو! پس ہم سب احمدی آپ کے جوارح ہیں۔ہم میں سے ہر ایک روحانی طور پر آپ ہی کا عضو ہے اور آپ کو آپ کے ان جوارح کو اور آپ کے درخت وجود کی شاخوں کو اللہ تعالیٰ نے عظیم بشارتیں دی ہیں اور ان چیزوں پر علی وجہ البصیرت یقین رکھنا ہر احمدی کا فرض ہے۔جواحمدیت میں پہلے داخل ہو چکے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں ثبات قدم عطا کیا اور کوئی ٹھو کر انہیں نہیں لگی اور مختلف قسم کے ابتلاؤں اور امتحانوں میں سے وہ گزرے۔دنیا نے ان کے لئے آگ جلائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس آگ کو ٹھنڈا کیا۔دنیا نے انہیں دکھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لذت کے سامان پیدا کئے۔وہ تو علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم ہیں کہ احمدیت ایک ایسی صداقت ہے اور اسلام کی صحیح شکل اس رنگ میں ہے کہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم وعدہ ہے کہ اسلام آج دنیا میں اپنی اس اصلی شکل میں غالب آئے گا۔یہ لوگ دنیا اور دنیا والوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور اپنے رب سے ہر دم خائف رہتے ہیں کہ کہیں شیطان وسوسہ ڈال کر انہیں ان کے رب کی محبت سے دور نہ لے جائے اور وہ اللہ تعالیٰ پر اس قدر عظیم بھروسہ اور توکل اور یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہمارے دل اخلاص سے بھرے ہوئے ہوں اگر ہمارے سینے اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی سے معمور ہوں تو اللہ تعالیٰ بہر حال ہمیں دھتکارے گا نہیں وہ ہمیں دور نہیں پھینک دے گا وہ ہمیں اپنے ساتھ لگالے گا اور اپنا قرب ہمیں عطا کرے گا اور اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیں داخل کرے گا۔ایک پختہ یقین اور ایمان کی بشاشت ان کے چہروں پر ہوتی ہے لیکن جو بعد میں آنے والے ہیں وہ باہر سے عقلی دلائل یا کسی ایک آدھ خواب کے نتیجہ میں یا دوسرے نشانات دیکھ کر احمدیت میں داخل ہوئے یا احمدیت میں پیدا ہوئے اور پھر شعور کو پہنچے