خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 935 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 935

خطبات ناصر جلد دوم ۹۳۵ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء سمجھتا اس کو مسند خلافت پر بٹھا دیتا ہے اور اس کمزور اور کم مایہ وجود کے ذریعہ سے دراصل وہ اپنی قدرتوں کا نشان دکھانا چاہتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کسی ایسے آدمی کو چنے جس کے متعلق دنیا پہلے ہی سمجھے کہ وہ آسمانوں پر پہنچا ہوا ہے تو پھر اس طرح تو اس قدرتِ ثانیہ کے جلوؤں میں بہت اشتباہ پیدا ہو جائے۔ہماری جماعت میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ جب اللہ تعالی کی طرف سے خلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت کے جو کرتا دھرتا لوگ تھے اور جن کا دل کرتا تھا کہ سب کچھ صدرانجمن کومل جائے اور ہر چیز ہمارے کنٹرول میں اور ہمارے ہاتھ میں آجائے اللہ تعالیٰ نے اس وقت ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ وہ سمجھے کہ اس کے سوا کوئی چارہ کا رنہیں کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب جو ہمارے نہایت ہی پیارے خلیفہ اول ہیں ان کو منتخب کر کے خلیفہ بنالیا جائے اور بتانے والوں نے بتایا ہے اور تاریخ نے اس کو ریکارڈ کیا ہے کہ آپس میں جب باتیں کرتے تھے تو کہتے تھے کہ بڑھا ہے دو چار سال میں ختم ہو جائے گا اور پھر ہر چیز ہمارے پاس آجائے گی۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ یہ بظاہر عقل و ہنر رکھنے والے تھے ماہر و تجربہ کار تھے جن کے ہاتھ میں سارا اقتدار تھا مگران کی نگاہ میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑے عالم دین یا بزرگ کی شکل میں نہیں آتے تھے بلکہ وہ انہیں ایک ایسے بڑھے کی شکل میں دیکھتے تھے جس پر عنقریب دو رفنا آنے والا ہوتا ہے مگر وہ عظیم شخص جس پر بظاہر بڑھاپے کا عالم بھی طاری تھا جسے بڑھاپے کی کمزوریاں بھی لاحق تھیں اور جس کے متعلق یہ سمجھا گیا تھا کہ ہم جو چاہیں گے اس سے منوا لیں گے۔جب مسند خلافت پر متمکن ہوا تو ان کی ایک غلطی پر اس نے ان کو وہ جھاڑ پلا ئی کہ ساروں کی چیخیں نکل گئیں اور آنسو تھے کہ تھمتے نہیں تھے اس وقت وہ جلال کا جلوہ جو دنیائے احمدیت نے دیکھا اور تاریخ احمدیت نے جسے محفوظ رکھا وہ اس بوڑھے کی طاقت کا جلوہ نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کے اس وعدے کا جلوہ تھا کہ میں جس کو بھی اس منصب پر فائز کروں گا میرے جلال اور جمال کو تم اس کے وجود میں مشاہدہ کرو گے۔اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوگا۔پھر ایک زمانہ گزرا حضرت امصلح الموعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ نے بہت ہی عظیم کام