خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 924 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 924

خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۴ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء بہترین تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے اور جس کا دائرہ قیامت تک وسیع ہے اور پھر جو تفسیر آپ کے خلفاء کی کتابوں میں پائی جاتی ہے اس کو ایک نعمت سمجھتے ہوئے۔۔۔۔اس کے سمجھنے سمجھانے کے لئے غور و فکر کریں اور ان حقائق سے پر کتابوں کو مہجور کر کے نہ چھوڑ دیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے ذریعہ قرآن کریم کے حقائق سمجھ کر ان پر عمل پیرا رہنے پر ہماری نجات منحصر ہے اسی میں ہماری اپنی خوشحالی اور ہماری اگلی نسلوں کا آرام اور خوشحالی کا راز مضمر ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو بار بار پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا ایاک نَعْبُدُ کے ماتحت آتا ہے کیونکہ یہ ایک عطا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل ہے تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ اور جب فائدہ اُٹھانے کی پوری تدبیر کر لو اور جب ان تفسیروں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں اور سامانوں کے استعمال پر اپنا پورا زور لگا چکو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے پھر میرے حضور آؤ اور مجھ سے مانگو اور کہو کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر بڑی نعمتیں نازل کیں اور تو نے سب سے بڑی نعمت قرآنِ عظیم کی شکل میں عطا کی اور پھر ان کی تفسیر کرنے کے لئے تو نے دنیا میں اپنے مطہرین کا گروہ بھیجا، انہوں نے تفسیریں لکھیں، پھر تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور ہمیں اُن پر ایمان لانے کی توفیق بخشی ، ہم نے آپ کی کتابوں کو پڑھا اپنی طرف سے ان کو سمجھنے کی مقدور بھر کوشش کی ، اپنی طرف سے یہ کوشش بھی کی کہ جن ہدایتوں پر وہ مشتمل ہیں اُن پر عمل پیرار ہیں لیکن ہماری یہ ساری کوششیں بے کار ہیں۔اگر تیرا دست قدرت یاوری نہ کرے، ہم فائدہ تو تب ہی حاصل کر سکتے ہیں جب کہ تیری مدد ہمارے شامل حال ہو، جب تیری نصرت کے ہم مستحق ٹھہریں۔پس ايَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیرے پاس مدد و نصرت لینے کے لئے آئے ہیں۔اس یقین کے ساتھ کہ تیری مدد کے بغیر ہماری کسی کوشش یا تدبیر کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اور نہ اسباب کے کسی استعمال کا فائدہ پہنچ سکتا ہے، نہ کسی فکر اور غور اور تدبر کا ، نہ خشوع کا کیونکہ خشوع و حضوع میں بھی بعض دفعہ شیطان کا دخل آ جانے سے بناوٹ آجاتی ہے۔انسان خود رورہا ہوتا ہے اور دراصل وہ شیطانی آنسو ہوتے ہیں، اُسے خود بھی پتہ نہیں ہوتا۔۔۔اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے تو امان ہے ورنہ امان کہیں بھی نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ